عطاء الرحمٰن — افسانہ نویس اور شاعر
عطاء الرحمٰن ایک مستند اور پرجوش ادیب ہیں جنہیں اردو ادب اور شاعری میں گہری دلچسپی ہے۔ ان کے افسانے اور تحریریں زندگی کے روزمرہ تجربات، انسانی جذبات، اور معاشرتی موضوعات کی عکاسی کرتی ہیں۔ عطاء الرحمٰن کا مقصد قارئین کو نہ صرف تفریح فراہم کرنا ہے بلکہ سوچنے پر مجبور کرنا اور ادب کے ذریعے ایک مثبت اثر قائم کرنا بھی ہے۔
ان کا لکھنے کا انداز سادہ، واضح اور دل کو چھو لینے والا ہے، جس سے ہر قاری آسانی سے جڑ سکتا ہے۔ وہ مستقل طور پر اپنے بلاگ عطاء نامہ کے ذریعے نئی کہانیاں، شاعری، اور تحریریں قارئین تک پہنچاتے رہتے ہیں۔
مصنف کے مضامین
میں منکرِ دوزخ تو نہیں ہوں اے میری جاں
راہوں پہ جو بیٹھی ہے کہیں گھات لگائے
سرکش کی انا تھام کے لے جائے گی آخر
آتش کے دہکتے ہوئے گہرے سے گڑھے میں
اور آگ کے شعلے جو محلات سے اونچے
کھانے کو فقط خار، نہ آرام کا سایہ
پینے کے لیے پیپ کا وہ کھولتا پانی
گردن پہ پڑے طوق، بدن پہ وہ ہتھوڑے
کھالوں کا وہ جل جانا، وہ مرنے کی صدائیں
رہنا ہو سدا اس میں، نہ جینا نہ ہی مرنا
راہوں پہ جو بیٹھی ہے کہیں گھات لگائے
سرکش کی انا تھام کے لے جائے گی آخر
آتش کے دہکتے ہوئے گہرے سے گڑھے میں
اور آگ کے شعلے جو محلات سے اونچے
کھانے کو فقط خار، نہ آرام کا سایہ
پینے کے لیے پیپ کا وہ کھولتا پانی
گردن پہ پڑے طوق، بدن پہ وہ ہتھوڑے
کھالوں کا وہ جل جانا، وہ مرنے کی صدائیں
رہنا ہو سدا اس میں، نہ جینا نہ ہی مرنا
اگر تم یہ سمجھتے ہو
مجھے رنج و الم دے کر
بڑے آرام سے جینے لگو گے تم
کہ مجھ پہ ظلم کے نشتر چلا کے
اور اس اندھے قفس میں قید کر کے
مجھے تنہا کرو گے تم
اور اس تنہائی میں
کمرے کے دروازے
در و دیوارِ زنداں کے
کہیں ڈسنے لگیں گے تو
مجھے رنج و الم دے کر
بڑے آرام سے جینے لگو گے تم
کہ مجھ پہ ظلم کے نشتر چلا کے
اور اس اندھے قفس میں قید کر کے
مجھے تنہا کرو گے تم
اور اس تنہائی میں
کمرے کے دروازے
در و دیوارِ زنداں کے
کہیں ڈسنے لگیں گے تو
دسمبر کی ایک خاموش شام تھی۔
میں ماموں جان کے پاس بیٹھا تھا۔ سردی میں لپٹی وہ شام شاید کسی آنے والی جدائی کا پیش خیمہ تھی۔ جب وہ اٹھنے لگے تو ان کی جسم کی جنبش میں ایک انجان سی لڑکھڑاہٹ تھی، جیسے جسم اپنے ہی وزن کو سنبھالنے سے قاصر ہو۔ انہیں سیدھا ہونے میں وقت لگا۔
میں نے گھبرا کر پوچھا،
“کیا ہوا ہے؟”
وہ ہنس پڑے۔ وہی مخصوص دلفریب مسکراہٹ۔ جس میں درد کم اور حوصلہ زیادہ ہوتا تھا۔ وہ ہمیشہ جیکی چن کی طرح زندگی کی بڑی سے بڑی چوٹ کو مذاق میں اُڑا دیتے
میں ماموں جان کے پاس بیٹھا تھا۔ سردی میں لپٹی وہ شام شاید کسی آنے والی جدائی کا پیش خیمہ تھی۔ جب وہ اٹھنے لگے تو ان کی جسم کی جنبش میں ایک انجان سی لڑکھڑاہٹ تھی، جیسے جسم اپنے ہی وزن کو سنبھالنے سے قاصر ہو۔ انہیں سیدھا ہونے میں وقت لگا۔
میں نے گھبرا کر پوچھا،
“کیا ہوا ہے؟”
وہ ہنس پڑے۔ وہی مخصوص دلفریب مسکراہٹ۔ جس میں درد کم اور حوصلہ زیادہ ہوتا تھا۔ وہ ہمیشہ جیکی چن کی طرح زندگی کی بڑی سے بڑی چوٹ کو مذاق میں اُڑا دیتے
یہ ایک ایسا سفر تھا جس کی خوبصورتی لفظوں میں سمیٹنا آسان نہیں۔ ہم نو مختلف ملکوں کے مسافر، ایک لگژری ٹرین نما بس میں سوار تھے، جو طویل اور آرام دہ سفر کے لیے خاص طور پر بنائی گئی تھی۔ نرم اور کشادہ نشستیں آمنے سامنے تھیں، درمیان میں فولڈ ہونے والا ٹیبل، اور کھانے کے لیے محض ایک بٹن کافی تھا، ہوسٹس فوراً حاضر ہو جاتی-
بس کے اندر آرام کے لیے سلیپر سیلز، درمیان میں کشادہ راہداری، واش روم کی سہولت اور ہر طرح کی آسائش موجود تھی۔ یوں لگتا تھا جیسے ہم کسی بس میں نہیں
بس کے اندر آرام کے لیے سلیپر سیلز، درمیان میں کشادہ راہداری، واش روم کی سہولت اور ہر طرح کی آسائش موجود تھی۔ یوں لگتا تھا جیسے ہم کسی بس میں نہیں
سید مبارک شاہ کی یاد میں
مبارک میرے خیال میں آ کے ملتا رہا
اور ہنساتا رہا
وہ بھولا سا چہرہ
وہ معصوم باتیں
وہ بے ساختہ میری کم علم باتوں پہ ھنسنا
وہ شاعر کی باتیں
وہ باتوں میں سارے جہانوں کے قصّے
وہ رنگیں مزاجی
وہ دانستہ نادان باتیں
جو اوپر سے سادہ
مبارک میرے خیال میں آ کے ملتا رہا
اور ہنساتا رہا
وہ بھولا سا چہرہ
وہ معصوم باتیں
وہ بے ساختہ میری کم علم باتوں پہ ھنسنا
وہ شاعر کی باتیں
وہ باتوں میں سارے جہانوں کے قصّے
وہ رنگیں مزاجی
وہ دانستہ نادان باتیں
جو اوپر سے سادہ
وہ کافر تھا، اس کی ادائیں بہت ہی قاتل تھیں۔
میں سنی تھا اور وہ شیعہ، ہمارے درمیان جو فرق تھا، وہ عقیدے سے زیادہ لفظوں کا تھا- ایسے لفظ، جو ہم نے سنے تو بہت تھے مگر سمجھے کم تھے۔
ہماری دوستی کسی مسلک سے شروع نہیں ہوئی تھی، نہ ہی کسی عقیدے سے۔ ہم اس وقت دوست ہوئے تھے جب ہمیں یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ بڑے ہو کر انسان ایک دوسرے کو ناموں کی بنیاد پر زندہ رہنے یا مر جانے کے قابل سمجھنے لگتا ہے۔
بیس برس ! ہاں، پورے بیس برس۔
بچپن کی وہی
میں سنی تھا اور وہ شیعہ، ہمارے درمیان جو فرق تھا، وہ عقیدے سے زیادہ لفظوں کا تھا- ایسے لفظ، جو ہم نے سنے تو بہت تھے مگر سمجھے کم تھے۔
ہماری دوستی کسی مسلک سے شروع نہیں ہوئی تھی، نہ ہی کسی عقیدے سے۔ ہم اس وقت دوست ہوئے تھے جب ہمیں یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ بڑے ہو کر انسان ایک دوسرے کو ناموں کی بنیاد پر زندہ رہنے یا مر جانے کے قابل سمجھنے لگتا ہے۔
بیس برس ! ہاں، پورے بیس برس۔
بچپن کی وہی