اگر تم یہ سمجھتے ہو
مجھے رنج و الم دے کر
بڑے آرام سے جینے لگو گے تم
کہ مجھ پہ ظلم کے نشتر چلا کے
اور اس اندھے قفس میں قید کر کے
مجھے تنہا کرو گے تم
اور اس تنہائی میں
کمرے کے دروازے
در و دیوارِ زنداں کے
کہیں ڈسنے لگیں گے تو
میں ڈر کے چیخ ماروں گا
مدد کو میں پکاروں گا
کسی دن اپنے ہونے یا نہ ہونے کا یقیں کر کے
بکھر کے ٹوٹ جاؤں گا
ارے ناداں،
قفس کے یہ اندھیرے تو
مجھے ساتھی سمجھتے ہیں
در و دیوارِ زنداں کے
مجھے محبوب کہتے ہیں
یہ مجھ سے بات کرتے ہیں
کئی گھنٹے، یہ ننھی چیونٹیاں رک کر
مجھے قصّے سناتی ہیں
کبھی یہ گنگناتی ہیں
کبھی یہ رقص کرتی ہیں
مجھے ہمراز کہتی ہیں
مجھے اپنا سمجھتی ہیں
مجھے سب کچھ بتاتی ہیں
ارے ناداں!
تمہیں کیا ہو گیا ہے
کیا اداسی اوڑھ رکھی ہے
کہ ہر دم سہمے سہمے زندگی ویران کر لی ہے
میری آنکھوں میں آ کے دیکھ لو
ٹوٹا نہیں ہوں میں
اکیلا ہو گیا ہوں پر
نہیں، تنہا نہیں ہوں میں
کبھی شیرازی مجھ سے بات کرتا ہے
مجھے حکمت سکھاتا ہے
کبھی اقبال اپنے فلسفے کے ٹوٹکے لے کر
میرے پہلو میں آ کے بیٹھ جاتا ہے
مجھے لندن میں اپنے دن گزرنے کے
کئی قصّے سناتا ہے
کبھی وہ شکسپیر جو
ڈرامے لکھتا جاتا تھا
وہ سیزر اور بروٹس کو
میرے کمرے میں لا کے یوں بیٹھاتا ہے
کہ جیسے مجلسِ شوریٰ یہ اٹلی کی
میرے کمرے میں اپنا کیس لڑنے آن پہنچی ہے
کبھی وہ رقص کرتا روم کا رومی
کبھی وہ ہند کے صوفی
جنہیں ہم غازی عبداللہ کہتے ہیں
کبھی وہ فاطمہ اور قائدِاعظم
میرے کندھے پہ تھپکی دے کے
گھنٹوں بیٹھ جاتے ہیں
سرورِ شب کے لمحے
دو گھڑی میں بیت جاتے ہیں
ارے ناداں
تمہارا یہ قفس، پہرے یہ زنداں کے
میرے اپنوں سے مجھ کو دور کرنا
اور اترانا
مجھے کب قید کرتے ہیں؟
حقیقت میں بتاتا ہوں
تمہیں معلوم نہ ہوگا
میں خوابوں کا مسافر ہوں
اور
میں اپنے خواب سارے بیچ آیا ہوں
میرے خوابوں خیالوں میں
کروڑوں لوگ بستے ہیں
کروڑوں لوگ ایسے ہیں
جو مجھ سے پیار کرتے ہیں
ابھی بھی وقت ہے سنبھلو
اجل نے جلد آنا ہے
کہ ہم سب ہی مسافر ہیں
سبھی نے لوٹ جانا ہے
میرے خوابوں کے وارث ہیں کروڑوں میں
جنہیں نہ مار پاؤ گے
کہ تم یہ آخری بازی بھی جلدی ہار جاؤ گے۔
