وہ کافر تھا، اس کی ادائیں بہت ہی قاتل تھیں۔
میں سنی تھا اور وہ شیعہ، ہمارے درمیان جو فرق تھا، وہ عقیدے سے زیادہ لفظوں کا تھا- ایسے لفظ، جو ہم نے سنے تو بہت تھے مگر سمجھے کم تھے۔
ہماری دوستی کسی مسلک سے شروع نہیں ہوئی تھی، نہ ہی کسی عقیدے سے۔ ہم اس وقت دوست ہوئے تھے جب ہمیں یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ بڑے ہو کر انسان ایک دوسرے کو ناموں کی بنیاد پر زندہ رہنے یا مر جانے کے قابل سمجھنے لگتا ہے۔
بیس برس ! ہاں، پورے بیس برس۔
بچپن کی وہی گلیاں تھیں، وہی ٹوٹی ہوئی کرکٹ کی وکٹیں اور گیند جو اکثر کسی کے صحن میں جا گرتی تھی، وہی اسکول کی سیڑھیاں جس پر ہم شرط لگا کر چھلانگیں لگاتے، اور وہی بے ساختہ ہنسی جس پر استاد ہمیں اکثر ڈانٹ پلا دیا کرتے اور الگ الگ بیٹھا دیا کرتے۔ ہم لڑتے بھی تھے تو آدھے گھنٹے سے زیادہ ناراض نہ رہ پاتے۔ ہم ایک دوسرے کی خاموشی بھی سمجھ لیتے تھے, بغیر پوچھے، بغیر کہے۔
میرا دوست بےحد حسین تھا؛ وہ ہنستا تو محفل کھل اٹھتی، یوں محسوس ہوتا جیسے دل پر جمی گرد اچانک اتر گئی ہو۔ میں ذرا سنجیدہ ہو جاتا تو وہ جان بوجھ کر کوئی بچگانه بات چھیڑ دیتا، اور میں اسی معصوم ہنسی کے سہارے اپنے بہت سے غم بھلا دیتا۔ ہم دونوں ایک جیسے تھے؛ ہمیں ایک ہی طرح کی فضول باتوں پر ہنسی آتی تھی, خاص طور پر اپنی ہی کی ہوئی حماقتوں پر۔ ہمارا ادبی ذوق اور افسانہ پسندی بھی ایک سی تھی۔ شیکسپیئر کی کتابوں پر گفتگو کرتے کرتے ہم بچپن کے کھیل کے میدان میں لوٹ جاتے؛ وہی گراؤنڈ میں دوسری ٹیم سے کھیل کے دوران ہونے والے جھگڑے، جن کے بعد دو دن تک کھیل بند رہتا، اور تیسرے دن، بغیر کسی اعلان ، سب کچھ خود ہی پھر سے ٹھیک ہو جاتا-
ہمیں ابھی بھی میٹرک کی انگریزی نظمیں یاد تھیں۔ اور وہ سائنس کے فارمولے جن کا اُس وقت مطلب سمجھ نہیں آتا تھا، اب بھی ویسے ہی بے معنی لگتے تھے, بس اب ہم ان پر ہنس سکتے تھے۔ وہ اکثر کہتا تھا:
“یار، ہم نے آدھی زندگی امتحان پاس کرنے میں لگا دی اور باقی آدھی یہ ثابت کرنے میں کہ ہمیں کچھ کام نہیں آیا۔”
میں ہنستے ہوئے کہتا، “کم از کم شاعری تو یاد ہے۔”
وہ جواباً فوراً جان بوجھ کر کوئی غلط مصرع پڑھ دیتا اور خود ہی سب سے پہلے ہنس پڑتا۔
میرے ایک سرپھرے کزن کو ھماری دوستی بہت ناگوار گزرتی تھی۔ وہ کبھی صاف لفظوں میں منع نہیں کرتا تھا، بس باتوں میں ایسے جملے کس دیتا تھا جو آہستہ آہستہ ذہن میں زہر گھول دیتے تھے۔
“وہ لوگ ٹھیک نہیں ، زیادہ قریب مت رہا کرو۔”
“آخر میں تمہیں بھی سمجھ آ جائے گی۔”
“پچھتاوا ہو گا تمہیں تمام عمر کا۔”
“ایمان اور دوستی ایک ساتھ نہیں چلتے, ایک کو چن لو۔”
“یہ کافر لوگ خود گمراہ ہیں؛ ان کے قریب رہنا آدمی کو آہستہ آہستہ راہے راست سے ہٹا دیتا ہے۔”
وہ کسی مذہبی جماعت کا رکن نہیں تھا، نہ کسی تنظیم کا نمائندہ ، مگر نہ جانے اسے یہ بات کیوں درست لگتی تھی کہ شیعہ کو کافر کہا جائے۔ اس کے نزدیک دنیا بہت سادہ تھی: ایک طرف حق، دوسری طرف باطل؛ ایک طرف ہم، دوسری طرف وہ-
میں اس سے اختلاف کرتا تھا، اور اپنی پوری شدت سے کرتا تھا۔ میں اسے کہتا کہ تمہیں کافر اور منکر کا فرق ہی معلوم نہیں۔ قرآن میں تو کسان کو بھی کافر کہا گیا ہے۔ لفظ اصل میں منکر ہوتا ہے یا مشرک۔ اور پھر یہ بھی کہ ہر سوال انکار نہیں ہوتا اور ہر مختلف آواز کفر نہیں بنتی۔ وہ مسکرا دیتا, ایسی مسکراہٹ کے ساتھ جیسے میں ابھی بہت کچھ نہیں جانتا اور وہ سب کچھ جان چکا ہو۔ وہ ہر بار کچھ نئے کاغذ / پمفلٹ پکڑاتا اور چلا جاتا، اور میں انہیں خاموشی سے، بغیر پڑھے، پرانے کاغذوں کے ایک لفافے میں ڈال کر رکھ دیتا، کیونکہ میں جانتا تھا کہ ان میں کیا تحریر ہو گی۔
وہ شام کہنے کو ایک عام سی شام تھی، مگر وہ اب بہت خاص شام بن چکی تھی۔ میرا دوست میرے ساتھ تھا۔ ہم ایک پرانے چائے والے کھوکھے پر جا بیٹھے۔ شام ٹھنڈی تھی اور گفتگو اور چائے گرم۔ ہم آج بہت ہنس رہے تھے، ایسے جیسے وقت نے ہمیں ابھی تک بچپن سے باہر ہی نہ نکلنے دیا ہو۔ کبھی وہ میری کسی پرانی شرارت کا ذکر چھیڑ دیتا، کبھی میں اسے اس کی کسی گمنام ناکامی پر چھیڑ دیتا۔ ہمیں یہ جان کر خاص مزہ آتا تھا کہ اب ان باتوں کا کوئی گواہ نہیں رہا، سوائے ہماری یادداشت کے۔
باتوں باتوں میں شام گہری ہو گئی اور ہم بھول گئے کہ وقت کتنا ہو چکا ہے۔ اس نے اچانک گھڑی دیکھی اور اس کے چہرے پر وہ یکدم سنجیدگی آ گئی جو اس پر کم ہی آتی تھی۔
“یار, طائ، دیرہوگئی ہے۔ امی انتظار کر رہی ہوں گی مجھے اب نکلنا چاہیے۔ جب تک میں نہ پہنچوں، وہ سوتی نہیں ہیں۔”
میں نے ہنستے ہوئے کہا، “.منے, امی سے تم زیادہ ہی ڈرنے لگے ہو۔ ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے۔”
وہ مسکرا دیا، “ماں سے ڈر نہیں ہوتا صاحب، بس دل نہیں مانتا کہ وہ انتظار کرے۔”
میں نے اس سے ویک اینڈ پر ملنے کا وعدہ لیا, ایک لمبی ملاقات کا، رات ساتھ کھانے کا، اور آج کی ادھوری باتیں مکمل کرنے کا۔ وہ فوراً مان گیا اور جاتے جاتے پلٹ کر بولا،
“ یاد رہے ویک اینڈ ، اس بار وعدہ تم مت توڑنا، وقت سے پہنچ جانا۔”
جیسے میں ہر بار دیر کر جاتا اور وہ وقت کا بڑا پکا تھا۔
ویک اینڈ آیا اور ادھوری ملاقات کی تکمیل کی باری آئی۔ اس بار میں بہت پُرجوش تھا، تو وقت سے کافی پہلے پہنچ گیا۔ اس کے آنے کے انتظار میں وقت بہت بےچینی سے گزرتا رہا۔ مجھے حیرت تب ہوئی جب میں نے گھڑی دیکھی تو آدھا گھنٹہ اوپر ہو چکا تھا مگر وہ ابھی تک نہیں پہنچا تھا۔ میں خود کو تسلی دیتا رہا اور اس کے دیر سے آنے کے خود ہی جواز گھڑتا رہا۔ وہ جو پانچ منٹ لیٹ ہو تو پیغام ضرور بھیج دیتا، مگر آج اس کا فون مکمل خاموش تھا۔
ساتھ لگے ٹی وی پر بریکنگ نیوز میں خبر چلی کہ شہر میں ٹارگٹ کلنگ ہوئی ہے۔ یہ سن کر میری بےچینی اب خوف میں بدلنے لگی۔ میرا ہاتھ مسلسل فون ڈائل کر رہا تھا مگر آگے سے اس کا نمبر ناٹ رسپانڈنگ تھا۔ یہ خاموشی اب شور میں بدل چکی تھی، اور دماغ میں وسوسے بےقابو ہو کر عروج پر پہنچتے جا رہے تھے۔ میں نے فوراً اس کے گھر جانے کا فیصلہ کیا، اور ٹھیک بیس منٹ بعد میں اس کی گلی کے باہر تھا۔
جب میں اس کی گلی میں پہنچا تو وہاں غیر ضروری حد تک بڑا ہجوم تھا۔ میں نے تیز تیز چلنا شروع کیا، دل کو بہلانے کی کوشش کرتا رہا کہ ایسا کچھ نہیں جو لگ رہا ہے، مگر دھڑکن تیز تر ہو رہی تھی اور قدم خود بخود بھاری ہونے لگے تھے۔ ہجوم کو ہٹاتا ہوا میں اپنے محبوب دوست کے گھر کی دہلیز پر پہنچ چکا تھا۔ دہلیز کے اُس پار اس کی ماں جی تھیں۔ مجھے دیکھتے ہی وہ جیسے ٹوٹنےلگیں۔ وہ ابھی تک سکتے کے عالم میں مکمل خاموش تھیں, جیسے وہ ٹوٹنے سے پہلے اندر سے بکھر رہی ہوں۔
“ ماں جی, حسن کدھر ہے؟ میری کانپتی نگاہوں نے سوال کیا
ماں جی، بغیر کچھ کہے، مجھ سے لپٹ گئیں۔ اس لمحے ماں جی کی چیخیں آسمان ہلا رہی تھیں اور میں سکتے کے عالم میں حقا بقا کھڑا تھا۔
حسن اب میرے سامنےتھا,زندگی اس کے وجود سے رخصت ہو چکی تھی، مگر چہرہ اب بھی زندگی کا گمان دیتا تھا۔ وہ خوبصورت چہرہ ابھی بھی مسکرا رہا تھا، جیسے اب وہ رب سے وہی باتیں کر رہا ہو جو کبھی مجھ سے کیا کرتا تھا۔
معلوم ہوا کہ اسے کسی نامعلوم نے “شیعہ–سنی” فساد کی آڑ میں ٹارگٹ کلنگ کر کے مار دیا تھا۔ اس کا پورا نام سید حسن رضا تھا، اور وہ آج ہی نوروز کی تیاریوں میں جوش و خروش سے مصروف تھا۔ اس کا قاتل معلوم بھی تھا اور نامعلوم بھی۔ قاتل کوئی ایک فرد نہیں تھا، بلکہ ایک سوچ تھی، ایک بیانیہ تھا, اور وہ تھا:
کافر کافر شیعه کافر
وہ اندر آج بےسود پڑا تھا اور میں باہر بےبس کھڑا تھا۔
بیس برس کی دوستی، متحرک رفاقت، ایک ساکت جسم میں بدل چکی تھی۔ سیاہ سوٹ زیبِ تن کیے، چہرے پر وہی ہلکی سی دل فریب مسکراہٹ, جیسے مجھے آنکھ مارنے والا ہو، جیسے ابھی کھلکھلا کر ہنس پڑے گا۔ مگر آنکھوں کی گہرائی میں ایسی ڈوبی ہوئی سنجیدگی تھی، جیسے وہ اب سب جانتا ہو اور ہم سب لاعلم ہوں۔
اس کے پاس ہی میرے لیے اس کا آخری تحفہ رکھا تھا, میرے نام کا ایک چھوٹا سا بیگ، جس پر لکھا تھا:
“ہماری دوستی کے بیس برس”
میں نے بیگ کھولا۔ اندر ایک تصویر تھی, دو بچے، گرد آلود کپڑوں میں ہنستے ہوئے، ہماری اسکول کی ایک یادگار تصویر۔ یہ تصویر اس نے آج میری ملاقات کے لیے خصوصاً پرنٹ کروائی تھی اور لے کر آ رہا تھا کہ راستے میں دو نامعلوم مگر معلوم نقاب پوش افراد نے اس کا نام معلوم کر کے اسے گولی مار دی۔
وہ تو اس فانی دنیا سے سرخرو گزر گیا تھا، مگر میں اس دن اندر سے واقعی مر گیا تھا۔ اس کی ماں جی کی آہیں اور سسکیاں مجھ پر ایٹم بم کی طرح برس رہی تھیں۔ ماں جی کو دینے کے لیے میرے پاس کچھ نہ تھا۔ نہ کوئی دلاسا نہ کوئی آس امید ، نہ کوئی بات، مجھے تو یوں لگ رہا تھا کہ نقصان ماں جی کا کم اور میرا زیادہ ہوا ہے۔
اگلی صبح کا منظر اور بھی بھیانک تھا۔ اس کا جنازہ تھا، اور مجھے ہر صورت اُسے الوداع کہنا تھا۔ حسن کو سفید رنگ بہت پسند تھا، اس لیے میں نے سوچا کہ آج سفید لباس پہن کر اسے الوداع کہنے جاؤں۔ ویسے بھی ہم سنیوں میں ہرخاص موقع پر سفید لباس کو ترجیح دی جاتی ہے۔ میں نے اس کا پسندیدہ سفید لٹھے کا سوٹ نکالا، جو ہم نے اکٹھے بنوایا تھا، زیبِ تن کیا اور اللہ کا نام لے کر جنازے میں شامل ہو گیا۔
جنازے میں پہنچتے ہی مجھے ایک لمحے کو احساس ہوا کہ شاید میں نے غلطی کی ہے, خاص طور پر سفید لباس پہن کر, کیونکہ وہاں سب سیاہ لباس پہنے ہوئے تھے۔ لوگ غصے میں بھی تھے۔ کچھ عمومی لعن طعن کر رہے تھےتو کچھ خاموشی سے ورد پڑھ رہے تھے، اور کچھ کہہ رہے تھے کہ اب ہم پر بدلہ واجب ہو چکا ہے، اور اگر سنیوں کا ایک آدمی مارا جائے گا توتب قصاص پورا ہو گا۔
اس وقت مجھے یہ بھی یاد نہ رہا کہ میں خود سنی ہوں۔ میں تو عشقِ یار میں گرفتار تھا۔ مجھے دوست کو الوداع کہنا تھا، اس کی چارپائی کو کندھا دینا تھا، اس کے گال پر بوسہ دینا تھا، اور اس کی قبر پر پھولوں کی بارش کرنی تھی۔
جوں جوں میں چارپائی کے قریب ہوتا گیا، لوگوں میں شک بڑھتا گیا کہ یہ اجنبی یقیناً کوئی غدار, گھس بیٹھیا ہے۔ لوگ مجھے خونخوار نظروں سے دیکھ رہے تھے، اور کچھ لوگ تو موقع کے انتظار میں تھے کہ مجھے چیر ڈالیں۔
جونہی میں چارپائی کے قریب پہنچا، دو جوان سامنے آ گئے اور مجھے گھسیٹ کر پیچھے لے گئے۔
“تم کون ہو، اور یہاں کیا کرنے آئے ہو؟ یہ ان کا سیدھا سوال تھا۔
میں نے بڑی مشکل سے خود کو سنبھال کر کہا،
“میں حسن کا دوست ہوں۔”
“ہاں، مگر وہ مر گیا ہے۔”
“تو کیا مرنے سے دوستی ختم ہو جاتی ہے؟”
وہ مجھے عجیب نظروں سے دیکھنے لگے۔ اسی اثنا میں ایک بڑی عمر کے سفید ریش بزرگ آئے اور بولے،
“بیٹا، تم یہاں جنازے میں کیا لینے آئے ہو؟”
میں نے اپنے آنسو ضبط کیے، گلے میں اٹکے آنسوؤں کو نگل کر لرزتی آواز میں کہا،
“میں اسے کندھا دینے آیا ہوں۔ ہم بیس برس سے ساتھی تھے۔اور آج ہماری ملاقات تھی۔”
انہوں نے پریشانی بھری نظروں سے مجھے دیکھا اور کہا،
“تم یہاں سے چلے جاؤ تو بہتر ہے، بعد میں آ جانا۔”
“بعد میں؟”
میں نے حیرت سے پوچھا۔
“بعد میں تو وہ نہیں ہو گا۔”
میں پرعزم ہو کر دوبارہ صفوں کو چیرتا ہوا پھر دوست کی میت کے قریب پہنچا۔ اب کی بار نظر سیدھا اس کے چہرے پر پڑی۔ وہی مسکراہٹ، وہی سکون، وہی رونق، وہی نور جیسے ابھی کوئی میری بات ختم ہوئی ہو اور وہ بے اختیار ہنس رہا ہو۔
میں اس کے چہرے میں گم سا ہو گیا کہ اچانک آواز آئی:
“یہی ہے اس کا وہ بےغیرت سنی دوست، جس کی وجہ سے اس کے بھائیوں نے اسے مارا ہے۔ مار دو اسے، تاکہ حساب برابر ہو آج ہی!”
یہ آواز نعرہ بنتی گئی۔ نوجوان نعرے لگاتے ہوئے مجھ پر ٹوٹ پڑے۔ کچھ گھونسے میرے سر اور کچھ پیٹھ پر پڑے، اچانک سے ایک لات میری کمر پر لگی، اور میں اوندھے منہ سیدھا حسن کی چارپائی کے اوپر جا گرا, ایسے جیسے اس نے خود مجھے بغل گیر ہونے کو بلایا ہو۔ میں ایک دم اس سے لپٹ گیا اور بلک بلک کر رونے لگا۔ اس کے جسم کی خوشبو نے مجھے اندر تک مہکا دیا۔ ظالم مجھے روتا دیکھ کر بھی مسکرا رہا تھا۔ میں اس ایک پل میں ایسا محو ہوا کہ سب مار بھول گیا،
مگر وہاں موجود لوگوں کو یہ سب اور بھی ناگوار گزرا۔ انہوں نے مجھے وہاں سے اٹھا کر پیچھے لے جایا، اور اب زور دار تھپڑ میرے منہ پر پڑنے لگے۔
اچانک مار دھاڑ اور شور کے بیچ ایک گرجدار آواز گونجی۔ یہ وہاں میری واحد ھمدرد ماں جی کی آواز تھی۔ وہ غیض و غضب سے چیخ اٹھیں:
“میرا حسن تو چلا گیا ہے، ظالمو! میرے حسین کو کیوں مارتے ہو؟”
ماں جی مجھے پیار سے “حسین” کہہ کر بلاتیں تھیں۔
وہ میرے سامنے ڈھال بن کر کھڑی ہو گئیں ان کی مداخلت سے سب سرمشار ہوکر پیچھے ہٹنے لگے۔ ماں جی نے مجھے پیار سے گلے لگایا، میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے چارپائی کے پاس لے آئیں۔
“حسن، تیرا چھوٹا بھائی حسین آیا ہے۔”
انہوں نے پیار سے حسن کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا:
“تو کہتا تھا نا، ماں، اگر میں دیر سے ہوں تو اس سے پوچھ لینا۔ تو میں اسے لے آئی ہوں، کہ آج ہم سے دیر نہ ہو جائے۔ اور تو یہ بھی کہتا تھا کہ ماں، میں باہر ہوں تو میری فکر نہ کرنا، میری ایک چھوٹی ماں اور بھی ہے، جو تیری طرح میری ہر ادا سمجھتی ہے۔ آج جانے سے پہلے اپنی اس چھوٹی ماں سے مل لے، اس سے بات کر لے۔”
اب ہم دونوں حسن کو دیکھ کر بلک بلک کر رو رہے تھے۔ حسن کو اب واپس نہیں آنا تھا، اور چند ہی لمحوں بعد اس کے سچے سفر کا آغاز ہونے والا تھا۔ ایک ایسا سفر جس کا شاید وہ مدت سے منتظر تھا۔ اسی لیے وہ آج اتنا پُرسکون تھا، مگر دوسری جانب ہم ابھی ذہنی طور پر بچھڑنے کو تیار نہیں تھے۔
ماں جی نے آنسو پونچھتے ہوئے سب کی طرف دیکھا، اور ایک ایسی بات کہی جو صرف حسن کی ماں ہی کہہ سکتی تھیں۔ وہ بولیں:
“اوریہ بات اب سب سن لیں۔ اے حسن! تیرے سوگواروں میں صرف اہلِ تشیع نہیں، اہلِ سنت بھی شامل ہیں۔”
حسن کی ماں بھی حسن جیسی ہی تھیں- انتہائی شگفتہ، گہری، اور اللہ کے بہت قریب۔
ایک عرصہ گزر گیا، مگر حسن کی موت ایک ایسا غم بن کر میرے سینے میں اتری کہ اب کوئی شام آنسو بہائے بغیر نہیں ڈھلتی۔ رات کی تنہائی اس کے خیال سے باتیں کرتے گزرتی۔ چائے ہمیشہ پھیکی لگتی، اور کھوکھے پر بیٹھنے کو دل نہیں مانتا تھا۔ جب جب ویک اینڈ آتا، دل اور بھی بوجھل ہو جاتا۔ اس کی ایک ایک “کافر ادا” بھولتی ہی نہ تھی, یہاں تک کہ آئینے میں خود کو دیکھتا تو وہ یاد آ جاتا۔ میں اس کیفیت سے آزاد نہ ہو پا رہا تھا، حقیقت میں، میں آزاد ہونا ہی نہیں چاہتا تھا۔
پھر قدرت کچھ یوں مجھ پر مہربان ہوئی کہ حسن اچانک لوٹ آیا۔ مگر اس بار اس کے آنے کا انداز کچھ اور تھا۔ وہ مجھے نظر آتا، مجھ سے ہم کلام ہوتا، اور پھر خاموشی سے نکل جاتا۔ اب عالم یہ تھا کہ دفتر میں جب کبھی میں بلاوجہ ہنس پڑتا تو ساتھی ایک دوسرے کو دماغ پر انگلی گھما کر اشارہ کرتے کہ شاید میں پاگل ہو رہا ہوں۔ مگر یہ پاگل پن نہیں تھا! یہ دیوانگی تھی، اور میں دیوانہ تھا: حسن کے حُسن اور اس کی اداؤں کا دیوانہ۔
مدت گزر گئی کہ ایک دن اچانک میرا کزن میرے گھر آیا۔ وہی جو میری حسن سے دوستی کو سخت ناگوار جانتا تھا۔ میں سمجھا اب وہ بھی میری طرح بدل گیا ہے، اور آج وہ میرا غم بانٹنے آیا ہے ۔ مگر وہ تو مجھے کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔ ویسے بھی جنازے میں مار کھانے کے بعد میں خاندان میں خاصا مشہور ہو چکا تھا، کہ یہ وہ سر پھرا ہے جو اہلِ تشیع کے جنازے پر بن بلائے گیا تھا۔ لوگ نہیں جانتے تھے کہ عاشق معشوق کے درمیان یہ رسمی بلاوے بے معنی ہوتے۔
اس نے آتے ہی بلا توقف مجھ سے کہا،
“آج کل یہ کافر لوگ بہت حد سے نکل گئے ہیں۔ انہوں نے اب ہمارے علما کو ٹارگٹ کرنا شروع کر دیا ہے۔ اب دیکھنا یہ بدلے میں کیا پاتے ہیں۔”
اس کی بےربط بات سن کر میں سخت جھنجھلا گیا۔ میں نے اس کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ کر اپنے پاس بٹھا لیا اور کہا،
“بس کرو اب یہ فتوے بازی۔ خدا نے جب کسی کو مشرک نہیں بنایا تو تم کون ہوتے ہو مشرک بنانے والے؟ وہ اسی خدا اور اسی رسول کو مانتے ہیں جنہیں ہم مانتے ہیں-تو بتاؤ، وہ مشرک کیسے ہو گئے؟”
اس نے مجھے عجیب نظروں سے دیکھا، ایک گہری آہ بھری اور بولا،
“ہمم… یہ لڑکا تو حد سے نکل گیا ہے۔ یاد رکھو، ‘جو جس سے محبت کرے گا، قیامت کے دن اسی کے ساتھ ہی اٹھایا جائے گا۔’ اب تمہاری مرضی تم کس سے محبت رکھتے۔”
اس کہ یہ بات سن کر کافی عرصے بعد میرے اندر ہی اندر خوشی کی ایک لہر سی دوڑ گئی، اس کا ہاتھ میں نے جھٹک دیا۔ خیال آیا کہ قیامت کے دن میں اور حسن تو ایک ساتھ ہی ہوں گے۔
وہ میری خاموشی دیکھ کر بولا،
“تم اب ان کی زبان بولتے ہو۔پہلے ہی تمہیں کہا تھا کہ یہ دوستی نہیں، آزمائش ہے؛ جو اس میں پڑا، اس کا ایمان خود مشکوک ہو گیا۔ بہر کیف، جھنگ میں ایک اجتماع ہے، اس میں آ جاؤ، سب سمجھ آ جائے گی، یہ اس کا پمفلٹ ہے۔”
اس نے پمفلٹ میرے ہاتھ میں تھمایا اور مجھے خلاؤں میں گھورتا چھوڑ کر چلا گیا۔
چند منٹ بعد میں نے پمفلٹ کھولا۔ اس کے سرورق پر لکھا تھا:
“کافر کافر شیعہ کافر، جو نہ مانے وہ بھی کافر”
تب مجھے سمجھ آیا کہ وہ یہ پمفلٹ مجھے دینے کیوں آیا تھا۔ میں شیعہ کو کافر نہیں مانتا تھا، اس لیے اس کی نظر میں میں بھی کافر تھا۔ کیسا نادان تھا کہ اتنے برسوں میں بھی اسے “کافر” اور “منکر” کا فرق معلوم نہ ہو سکا۔
خیر، سچ میں کافر تو میرا حسن بھی تھا۔ کیونکہ اس کی ہر ادا بہت ہی کافرانہ تھی۔ میں اکثر اسے محبت سے” کافر” کہہ دیتا تھا، یہ نہ جانتے ہوئے کہ اسی لفظ کی وجہ سے ایک دن وہ مار دیا جائے گا۔
———————————————
حسن کی یاد میں لکھی گئی میری نظم
اُٹھ گئے یار محبتاں والے،
مُک گئے ساڈے ہاسے
اکھاں اگے پے گئے جالے،
اسی رو رو ہو گئے ماسے
کہیڑی تھاں ہُن جائیے،
تے تینوں ڈھونڈیے کیہڑے پاسے
حسن تینوں اے عطاء نہیں بھُلدا،
گو کہ ہو گئے سال ہن خاصے
تحریر: عطاء الرحمٰن
تاریخِ تحریر: 22 فروری 2013
دوبارہ ترمیم شدہ اشاعت: 21 جنوری 2026، دن 2:15 بجے
(کوہستان اینکلو، پاکستان)
