ماموں جی کی وفات پہ لکھی تحریر۔
————-
دسمبر کی ایک خاموش شام تھی۔
میں ماموں جان کے پاس بیٹھا تھا۔ سردی میں لپٹی وہ شام شاید کسی آنے والی جدائی کا پیش خیمہ تھی۔ جب وہ اٹھنے لگے تو ان کی جسم کی جنبش میں ایک انجان سی لڑکھڑاہٹ تھی، جیسے جسم اپنے ہی وزن کو سنبھالنے سے قاصر ہو۔ انہیں سیدھا ہونے میں وقت لگا۔
میں نے گھبرا کر پوچھا،
“کیا ہوا ہے؟”
وہ ہنس پڑے۔ وہی مخصوص دلفریب مسکراہٹ۔ جس میں درد کم اور حوصلہ زیادہ ہوتا تھا۔ وہ ہمیشہ جیکی چن کی طرح زندگی کی بڑی سے بڑی چوٹ کو مذاق میں اُڑا دیتے تھے، جیسے ہر ضرب ایک فلمی سین ہو جس پر ہنسی چھڑک کر اگلے فریم میں بڑھ جانا ہو۔ بولے:
“اس عمر میں یہ سب نارمل ہے، کچھ سنجیدہ نہیں۔”
پھر میرے کندھے پر ہلکی سی تھپکی دی، اور یوں چل پڑے جیسے درد کو پیچھے چھوڑ آئے ہوں۔
مگر کچھ درد پیچھے نہیں رہتے۔ وہ آہستہ آہستہ انسان کے اندر گھر بنا لیتے ہیں۔ اس کے بعد جب بھی ملاقات ہوئی، ان کا چہرہ پہلے سے زیادہ تھکا ہوا اور جسم پہلے سے زیادہ کمزور لگا، جیسے زندگی ان سے آہستہ آہستہ اپنا حق واپس لے رہی ہو۔ یہاں تک کہ وہ مہینہ آ پہنچا جو ان کا دنیا میں آخری مہینہ تھا۔
عجیب اتفاق تھا کہ اسی آخری مہینے میں وہی درد میرے جسم میں بھی جاگ اٹھا۔ بیٹھنے اور اٹھنے کے درمیان ایک اذیت حائل ہو گئی، اور سیدھا ہونا ایک امتحان بن گیا۔ انہی لمحوں میں میں نے ان کا جنازہ اٹھایا—محبت میں فریفتہ و سرشار ہو کر ان کی چارپائی کو آگے سے تھامے، اور دل کے اندر ایک ایسا خلا لیے جسے کوئی ہاتھ نہیں بھر سکتا۔
گھر لوٹا تو یوں لگا جیسے کمر میرا ساتھ چھوڑ چکی ہو۔ سب اسے مہروں کا درد کہتے تھے، کچھ نے لا علاج کہا، اور مثالیں میرے سامنے تھیں۔ عجیب مایوسی نے دل میں ڈیرہ ڈال لیا۔ ایک مہینے سے زیادہ میں اسی خوف کے ساتھ جیتا رہا کہ شاید یہ درد اب عمر بھر کا ہم سفر بن جائے گا۔ درد تھا کہ جانے کا نام ہی نہیں لیتا تھا۔
ویسےیہ درد بھی دو طرح کے ہوتے ہیں، کچھ جسم کے، کچھ دل کے۔ جسم کے درد دکھائی دے جاتے ہیں، تشخیص بھی ہو جاتی ہے، اور کبھی کبھی علاج بھی۔ مگر دل کے درد نہ نظر آتے ہیں، نہ بولتے ہیں۔ وہ خاموشی سے اندر ہی اندر انسان کو کھوکھلا کرتے رہتے ہیں۔ اور شاید یہی وجہ تھی کہ جسم کے اس درد کے ساتھ ساتھ دل کا ایک اور درد بھی پلتا رہا، جس کا نام پچھتاوا تھا۔
جسم کے زخموں کا مرہم ڈھونڈ ہی لیتے ہیں لوگ
دل کا جو دکھ رہ گیا، وہ بے دوا ہی رہ گیا
پھر ایک دن خیال آیا کہ دو تین ماہ قبل دوا اور پرھیز کے ساتھ ڈاکٹر حسنین ہاشم نے مجھے فزیوتھراپی کی بھی تاکید کی تھی۔ میں نے چیٹ جی پی ٹی سے سوال کیا، اور جواب نے جھنجھوڑ دیا کہ اگر دیر ہو گئی تو پٹھے اپنی راہ بدل لیتے ہیں، اور پھر واپسی ممکن نہیں رہتی۔ میں نے فوراً ڈاکٹر سے وقت لیا۔ پندرہ سیشن تجویز ہوئے تھے، مگر ابھی چند ہی سیشن ہوئے تھے کہ درد نے رخصت لے لی، جیسے وہ کبھی تھا ہی نہیں۔
وہ درد تو چلا گیا، مگر اسی لمحے ایک اور درد نے جنم لیا—یہ خیال کہ کاش ماموں جان کا علاج بھی وقت پر ہو جاتا۔ کاش ان کے درد کو بھی ہم نے مذاق میں اُڑانے کے بجائے سنجیدگی سے سنا ہوتا۔
میری طرح فزیوتھراپی انکی بھی کمر کی تکلیف کا بر وقت علاج تھا۔
یاد آیا، ایک ماہ پہلے انہوں نے کہا تھا:
“بیٹا، دس قدم چلتا ہوں تو گھٹنے کا درد مجھے روک لیتا ہے، پھر بیٹھ کر سانس لیتا ہوں۔”
آج ماموں جان اپنی آخری آرام گاہ میں خاموش ہیں، اور میں اس خاموشی کے معنی سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ ہم زندہ لوگوں کے درد کو غیر سنجیدہ سمجھ لیتے ہیں، اور خیال کرتے ہیں کہ وقت سب کچھ سنبھال لے گا۔ مگر وقت صرف گزرنا جانتا ہے، لوٹانا نہیں۔ جو توجہ، جو خیال، جو علاج ہم نے جیتے جی نہ
دیا، وہی مرنے کے بعد عمر بھر کا پچھتاوا بن جاتا ہے۔
@
ہم نے جیتے جی نہ سمجھی درد کی یہ گفتگو
خامشی نے بعد میں سب کچھ ہمیں سمجھا دیا
اے عطاء اس وقت نے آخر ہمیں دکھلا دیا
جو نہ کہہ پاتے تھے ہم، وہ درد نے کہلا دیا
—————@
دل کی زمیں میں درد کا طوفان کر گیا
مرشد ہمارے گاؤں کو ویران کر گیا
عطا الرحمٰن
1 جنوری 2026 — شام 6:00 بجے
