منکرِ دوزخ
میں منکرِ دوزخ تو نہیں ہوں اے میری جاں راہوں پہ جو بیٹھی ہے کہیں گھات لگائے سرکش کی انا تھام کے لے جائے گی آخر آتش کے دہکتے ہوئے گہرے سے گڑھے میں اور آگ کے شعلے جو محلات سے اونچے کھانے کو فقط خار، نہ آرام کا سایہ…
مزید پڑھیں