منکرِ دوزخ
————————————
میں منکرِ دوزخ تو نہیں ہوں اے میری جاں
راہوں پہ جو بیٹھی ہے کہیں گھات لگائے
سرکش کی انا تھام کے لے جائے گی آخر
آتش کے دہکتے ہوئے گہرے سے گڑھے میں
اور آگ کے شعلے جو محلات سے اونچے
کھانے کو فقط خار، نہ آرام کا سایہ
پینے کے لیے پیپ کا وہ کھولتا پانی
گردن پہ پڑے طوق، بدن پہ وہ ہتھوڑے
کھالوں کا وہ جل جانا، وہ مرنے کی صدائیں
رہنا ہو سدا اس میں، نہ جینا نہ ہی مرنا
ایسا یہ تصور کہ دہل جائے ہے انساں
میں منکرِ دوزخ تو نہیں ہوں اے میری جاں
پر اس میں یہ جلنا، یہ تڑپنا، یہ سزائیں
یوں حضرتِ انساں سے خدا کر نہیں سکتا
جو رحم میں یکتا، عطا میں بھی ہے ممتاز
شفقت میں بھی ایسا، کہ ماں سے بھی زیادہ
معتوب کسی کو وہ سدا کر نہیں سکتا
ہم خاک نشیں ٹھہرے خطاؤں کے مسافر
وہ عرش کا مالک، وہ جہانوں کا خداوند
اک اشکِ ندامت پہ بدل دے وہ ارادہ
اک آہ پہ مٹا دیتا ہے برسوں کی خطائیں
غالب ہے سدا اس کا رحم، اس کے غضب پر
ہے اس کی عطا ڈھونڈتی دینے کے بہانے
پھر حضرتِ انساں کو جلا دے گا وہ کیسے؟
اک موجِ کرم آ کے بجھا دے گی یہ شعلے
آتش کو وہ رحمت سے گلستان کرے گا
تم دیکھنا ہر زخم کا درمان کرے گا
اپنی ہی تجلی سے مٹا دے گا اندھیرے
دوزخ کو وہ ہر حال میں ویران کرے گا
——————————————————————
بس حدیثِ دوزخ اب ناتمام رہنے دے
کچھ خدا کا سینوں میں احترام رہنے دے
سید مبارک شاہ ، کے اس شعر کی تشریح کرتے کرتے لکھی گئی نظم۔
