اے چاند کی ماند اے پری رو کہاں ہے
تو نہ تو کہا تھا کہ لڑائی یہ سخت ہے
اب ایسی لڑائی کو تو ھم ساتھ لڑیں گے
آ دیکھ کہ نرگس جو میری ساتھ کھڑی ہے
جیتی ہوئی لگتی ہے کہ مر سی یہ گئی ہے
ماں تیری تو دروازہ کھلا چھوڑ کھٹری ہے
کسے کہوں اسکو کہ تو جس سمت گئی ہے
اس سمت کو جانے کے تو رستے ہیں ہزاورں
پر آنے کا رستہ جو ہے، وہ بند پڑا ہے
اے چاند کی ماند اے پری رو سی صورت
تو نہ تو کہا تھا کہ لڑائی یہ سخت ہے
اب ایسی لڑائی کو تو ھم ساتھ لڑیں گے
آ دیکھ کہ نرگس جو میری ساتھ کھڑی ہے
جیتی ہوئی لگتی ہے کہ مر سی یہ گئی ہے
ماں تیری تو دروازہ کھلا چھوڑ کھٹری ہے
کسے کہوں اسکو کہ تو جس سمت گئی ہے
اس سمت کو جانے کے تو رستے ہیں ہزاورں
پر آنے کا رستہ جو ہے، وہ بند پڑا ہے
اے چاند کی ماند اے پری رو سی صورت
وہ کافر تھا، اس کی ادائیں بہت ہی قاتل تھیں۔
میں سنی تھا اور وہ شیعہ، ہمارے درمیان جو فرق تھا، وہ عقیدے سے زیادہ لفظوں کا تھا- ایسے لفظ، جو ہم نے سنے تو بہت تھے مگر سمجھے کم تھے۔
ہماری دوستی کسی مسلک سے شروع نہیں ہوئی تھی، نہ ہی کسی عقیدے سے۔ ہم اس وقت دوست ہوئے تھے جب ہمیں یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ بڑے ہو کر انسان ایک دوسرے کو ناموں کی بنیاد پر زندہ رہنے یا مر جانے کے قابل سمجھنے لگتا ہے۔
بیس برس ! ہاں، پورے بیس برس۔
بچپن کی وہی
میں سنی تھا اور وہ شیعہ، ہمارے درمیان جو فرق تھا، وہ عقیدے سے زیادہ لفظوں کا تھا- ایسے لفظ، جو ہم نے سنے تو بہت تھے مگر سمجھے کم تھے۔
ہماری دوستی کسی مسلک سے شروع نہیں ہوئی تھی، نہ ہی کسی عقیدے سے۔ ہم اس وقت دوست ہوئے تھے جب ہمیں یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ بڑے ہو کر انسان ایک دوسرے کو ناموں کی بنیاد پر زندہ رہنے یا مر جانے کے قابل سمجھنے لگتا ہے۔
بیس برس ! ہاں، پورے بیس برس۔
بچپن کی وہی
شاعری
میں منکرِ دوزخ تو نہیں ہوں اے میری جاں
راہوں پہ جو بیٹھی ہے کہیں گھات لگائے
سرکش کی انا تھام کے لے جائے گی آخر
آتش کے دہکتے ہوئے گہرے سے گڑھے میں
اور آگ کے شعلے جو محلات سے اونچے
کھانے کو فقط خار، نہ آرام کا سایہ
پینے کے لیے پیپ کا وہ کھولتا پانی
گردن پہ پڑے طوق، بدن پہ وہ ہتھوڑے
کھالوں کا وہ جل جانا، وہ مرنے کی صدائیں
رہنا ہو سدا اس میں، نہ جینا نہ ہی مرنا
راہوں پہ جو بیٹھی ہے کہیں گھات لگائے
سرکش کی انا تھام کے لے جائے گی آخر
آتش کے دہکتے ہوئے گہرے سے گڑھے میں
اور آگ کے شعلے جو محلات سے اونچے
کھانے کو فقط خار، نہ آرام کا سایہ
پینے کے لیے پیپ کا وہ کھولتا پانی
گردن پہ پڑے طوق، بدن پہ وہ ہتھوڑے
کھالوں کا وہ جل جانا، وہ مرنے کی صدائیں
رہنا ہو سدا اس میں، نہ جینا نہ ہی مرنا
اگر تم یہ سمجھتے ہو
مجھے رنج و الم دے کر
بڑے آرام سے جینے لگو گے تم
کہ مجھ پہ ظلم کے نشتر چلا کے
اور اس اندھے قفس میں قید کر کے
مجھے تنہا کرو گے تم
اور اس تنہائی میں
کمرے کے دروازے
در و دیوارِ زنداں کے
کہیں ڈسنے لگیں گے تو
مجھے رنج و الم دے کر
بڑے آرام سے جینے لگو گے تم
کہ مجھ پہ ظلم کے نشتر چلا کے
اور اس اندھے قفس میں قید کر کے
مجھے تنہا کرو گے تم
اور اس تنہائی میں
کمرے کے دروازے
در و دیوارِ زنداں کے
کہیں ڈسنے لگیں گے تو
اے چاند کی ماند اے پری رو کہاں ہے
تو نہ تو کہا تھا کہ لڑائی یہ سخت ہے
اب ایسی لڑائی کو تو ھم ساتھ لڑیں گے
آ دیکھ کہ نرگس جو میری ساتھ کھڑی ہے
جیتی ہوئی لگتی ہے کہ مر سی یہ گئی ہے
ماں تیری تو دروازہ کھلا چھوڑ کھٹری ہے
کسے کہوں اسکو کہ تو جس سمت گئی ہے
اس سمت کو جانے کے تو رستے ہیں ہزاورں
پر آنے کا رستہ جو ہے، وہ بند پڑا ہے
اے چاند کی ماند اے پری رو سی صورت
تو نہ تو کہا تھا کہ لڑائی یہ سخت ہے
اب ایسی لڑائی کو تو ھم ساتھ لڑیں گے
آ دیکھ کہ نرگس جو میری ساتھ کھڑی ہے
جیتی ہوئی لگتی ہے کہ مر سی یہ گئی ہے
ماں تیری تو دروازہ کھلا چھوڑ کھٹری ہے
کسے کہوں اسکو کہ تو جس سمت گئی ہے
اس سمت کو جانے کے تو رستے ہیں ہزاورں
پر آنے کا رستہ جو ہے، وہ بند پڑا ہے
اے چاند کی ماند اے پری رو سی صورت
سید مبارک شاہ کی یاد میں
مبارک میرے خیال میں آ کے ملتا رہا
اور ہنساتا رہا
وہ بھولا سا چہرہ
وہ معصوم باتیں
وہ بے ساختہ میری کم علم باتوں پہ ھنسنا
وہ شاعر کی باتیں
وہ باتوں میں سارے جہانوں کے قصّے
وہ رنگیں مزاجی
وہ دانستہ نادان باتیں
جو اوپر سے سادہ
مبارک میرے خیال میں آ کے ملتا رہا
اور ہنساتا رہا
وہ بھولا سا چہرہ
وہ معصوم باتیں
وہ بے ساختہ میری کم علم باتوں پہ ھنسنا
وہ شاعر کی باتیں
وہ باتوں میں سارے جہانوں کے قصّے
وہ رنگیں مزاجی
وہ دانستہ نادان باتیں
جو اوپر سے سادہ