اے چاند کی ماند اے پری رو کہاں ہے
تو نہ تو کہا تھا کہ لڑائی یہ سخت ہے
اب ایسی لڑائی کو تو ھم ساتھ لڑیں گے
آ دیکھ کہ نرگس جو میری ساتھ کھڑی ہے
جیتی ہوئی لگتی ہے کہ مر سی یہ گئی ہے
ماں تیری تو دروازہ کھلا چھوڑ کھٹری ہے
کسے کہوں اسکو کہ تو جس سمت گئی ہے
اس سمت کو جانے کے تو رستے ہیں ہزاورں
پر آنے کا رستہ جو ہے، وہ بند پڑا ہے
اے چاند کی ماند اے پری رو سی صورت
وہ کافر تھا، اس کی ادائیں بہت ہی قاتل تھیں۔
میں سنی تھا اور وہ شیعہ، ہمارے درمیان جو فرق تھا، وہ عقیدے سے زیادہ لفظوں کا تھا- ایسے لفظ، جو ہم نے سنے تو بہت تھے مگر سمجھے کم تھے۔
ہماری دوستی کسی مسلک سے شروع نہیں ہوئی تھی، نہ ہی کسی عقیدے سے۔ ہم اس وقت دوست ہوئے تھے جب ہمیں یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ بڑے ہو کر انسان ایک دوسرے کو ناموں کی بنیاد پر زندہ رہنے یا مر جانے کے قابل سمجھنے لگتا ہے۔
بیس برس ! ہاں، پورے بیس برس۔
بچپن کی وہی
شاعری
Select the fields to be shown. Others will be hidden. Drag and drop to rearrange the order.
  • Image
  • SKU
  • Rating
  • Price
  • Stock
  • Availability
  • Add to cart
  • Description
  • Content
  • Weight
  • Dimensions
  • Additional information
Click outside to hide the comparison bar
Compare