سید مبارک شاہ کی یاد میں
جن کی یاد اکثر شدت سے آتی ہے اور رات گئے تک میرے ساتھ ہی رہتی ہے۔۔۔۔ تم ہوتے تو ایسا ہوتا۔۔۔ تم ہوتے تو ویسا ہوتا۔۔۔ میں اور میری تنہائی، اکثر باتیں
کرتے ہیں۔
————————————
نظم : مبارک کی یاد میں۔
-———————————-
مبارک میرے خیال میں آ کے ملتا رہا
اور ہنساتا رہا
وہ بھولا سا چہرہ
وہ معصوم باتیں
وہ بے ساختہ میری کم علم باتوں پہ ھنسنا
وہ شاعر کی باتیں
وہ باتوں میں سارے جہانوں کے قصّے
وہ رنگیں مزاجی
وہ دانستہ نادان باتیں
جو اوپر سے سادہ
اور اندر سے جیسے
سمندر کی گہرائیوں سے بھی گہری
وہ شب بھر مجھے، سب سناتا رہا
مبارک مجھے آ کے ملتا رہا
اور ہنساتا رہا
وہ معشوق میرا
میں عاشق تھا اس کا
یہی جان کر وہ
فلک سے پلٹ کر
مجھے آ کے سینے لگاتا رہا
دھڑکنیں، میرے دل کی بڑھاتا رہا
مبارک مجھے آ کے ملتا رہا اور رُلاتا رہا
وہی بے نیازی، وہی بانکپن اور
وہی اسکی معصومیت سے بھری سی نگاہیں
وہ کافر ادائیں
میرے کان میں اپنے جانے کا کہہ کر
میرے آنسوؤں کو گراتا رہا
مبارک مجھے آ کے ملتا رہا
اور ستاتا رہا
⸻——————————————
*دروغِ صبح کازب کی قسم لے لو۔۔
میرے سب خواب سچے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ھم آپنی ذات کے کافر سے مستعار۔
—————————————————
عطاءالرحمٰن
سید مبارک شاہ کی یاد میں
جنوری 2026, کوہستان ، واہ
