ماہ نور

WhatsApp Image 2026-02-20 at 8.41.16 AM

یہ ایک ایسا سفر تھا جس کی خوبصورتی لفظوں میں سمیٹنا آسان نہیں۔ ہم نو مختلف ملکوں کے مسافر، ایک لگژری ٹرین نما بس میں سوار تھے، جو طویل اور آرام دہ سفر کے لیے خاص طور پر بنائی گئی تھی۔ نرم اور کشادہ نشستیں آمنے سامنے تھیں، درمیان میں فولڈ ہونے والا ٹیبل، اور کھانے کے لیے محض ایک بٹن کافی تھا، ہوسٹس فوراً حاضر ہو جاتی-

بس کے اندر آرام کے لیے سلیپر سیلز، درمیان میں کشادہ راہداری، واش روم کی سہولت اور ہر طرح کی آسائش موجود تھی۔ یوں لگتا تھا جیسے ہم کسی بس میں نہیں بلکہ ایک چلتی ہوئی رہائش گاہ میں سفر کر رہے ہوں۔

یہ سفر آذربائجان کے دارالحکومت باکو سے شروع ہوا اور شاماخی کی پُرسکون وادیوں کی طرف بڑھ رہا تھا۔ راستے میں گوبستان کے قدیم آثار ہمارا انتظار کر رہے تھے، اور رات گردیمنچائے ندی کے کنارے ایک دلکش کیمپ ولیج میں بسر ہونی تھی۔ ہمیں خبر نہ تھی کہ یہ رات محض ایک پڑاؤ نہیں بلکہ ایک یاد بن کر ہمارے ساتھ چلے گی۔

اس سفر کی اصل دلکشی صرف فطرت کے مناظر میں نہیں تھی، بلکہ خود انسانوں میں تھی۔ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے حسین مناظر اور دل موہ لینے والے چہرے آپس میں خاموش مقابلہ کر رہے ہوں، اور فیصلہ کرنا مشکل ہو جائے کہ حسن کس طرف زیادہ ہے۔

میرا دوست فِلی اکثر کہا کرتا تھا،

“جب خدا دل میں حسن بیدارکر دے تو دنیا کی ہر چیز خوبصورت دکھائی دینے لگتی ہے، اور جب دل باوضو ہو جائے تو دنیا شفاف، اُجلی اور روشن نظر آتی ہے۔”

میں اس بات کی گہرائی کو کبھی پوری طرح سمجھ نہ سکا، کیونکہ میں نے تو ہمیشہ صرف جسم کا وضو کیا تھا۔ دل کے وضو کا ہنر میں نے کبھی سیکھا ہی نہیں تھا۔

یوں تو اس بس کے ہر مسافر سے  ایک مانوس سی قربت پیدا ہو گئی تھی ۔ مگر موٹی آنکھوں اور باریک نقش والی ماہ نور۔۔ جسے بجا طور پر دنیا کی حسین ترین لڑکیوں میں شمار کیا جا سکتا ہے۔۔ اپنی ملتی جلتی مگر مزاجاً مختلف بڑی بہن نرگس کے ساتھ اس سفر پر خاص طور پر پاکستان سے آئی ہوئی تھی۔

دونوں بہنوں کے درمیان ایک فطری ہم آہنگی تھی، ایسی کیمسٹری جو بنا کہے سب کچھ کہہ دیتی ہے اور میری طرح وہ بھی ہر جگہ، ہر چھوٹی بڑی ایڈونچر میں شامل ہونے کو تیار رہتیں۔

ماہ نور شوخ، چنچل اور بے حد پُراعتماد, مگر اس شوخی کے پیچھے ایک گہری سوچ اور وسیع نظر چھپی ہوئی تھی۔  وہ ہنستی تو یوں لگتا جیسے محفل روشن ہو گی ہو، اور خاموش ہوتی تو اس کی خاموشی بھی کچھ کہہ جاتی۔  اس کے برعکس نرگس نہایت باوقار، نفیس اور صاف گو تھی، سیدھی سی، بے تکلف، اور لفظوں کے پیچ و خم سے بے نیاز۔

ان بہنوں کی خوبصورتی محض چہرے تک محدود نہیں تھی۔ ان کے بات کرنے کا انداز، خاموشی میں چھپی ادائیں، اور ہنسی کا بے ساختہ پن۔ سب کچھ ایسا تھا کہ انسان متاثر ہوئے بغیر نہ رہ پاتا۔ وہ میری معمولی اور بعض اوقات بالکل بے وقوفانہ باتوں پر بھی دل کھول کر ہنستیں، اور میں ان کی گفتگو میں چھپی معنویت کو سمجھنے کی کوشش میں لگا رہتا۔

ہماری دوستی کی ابتدا بس کی اُن نشستوں سے ہوئی جو آمنے سامنے لگی تھیں، مگر سفر کے اختتام تک وہ محض نشستوں کی ہم سفری نہ رہی۔ ہم لوگ نجانے کب ایک دوسرے کے لیے اجنبی نہیں رہے، بلکہ ایک چھوٹی سی فیملی بن چکے تھے۔ وقت یوں گزرا کہ احساس ہی نہ ہوا ہم پہلی بار ملے تھے، یوں لگتا تھا جیسے یہ تعلق کہیں بہت پہلے سے چلا آ رہا ہو۔۔

ہماری دوستی کسی تعارف، رسمی جملوں یا روایتی گفتگو سے شروع نہیں ہوئی تھی، بلکہ ایک رُکی ہوئی کال سے جنم لے گئی تھی۔

ماہ نور بار بار پاکستان اپنی والدہ کو ویڈیو کال کرنے کی کوشش کر رہی تھی، مگر ہر بار اسکرین لمحہ بھر کو روشن ہوتی اور پھر بجھ جاتی۔ اس نے کچھ دیر پہلے مجھے واٹس ایپ پر بات کرتے دیکھا تھا، اس لیے اچانک وہ میری طرف مڑی اور ذرا جھجکتے ہوئے بولی،

“آپ کا واٹس ایپ ٹھیک چل رہا ہے؟”

“جی، بالکل ٹھیک،” میں نے جواب دیا۔

وہ الجھن میں پڑ گئی،

“تو پھر میرا کیوں نہیں چل رہا؟”

میں مسکرا دیا اور بولا،

“اس کی دو وجوہات ہو سکتی ہیں۔

ایک تو یہ کہ اس وقت آپ کی امی آپ سے بات نہ کرنا چاہ رہی ہوں،

اور دوسری یہ کہ آپ کے موبائل میں وی پی این نہیں ہے۔ پردیس میں اکثر بغیر وی پی این کے آواز اپنا راستہ نہیں بنا پاتی۔”

وہ فوراً چونکی،

“امی مجھ سے بات کیوں نہیں کریں گی؟ انہیں تو ہماری کال کا شدت سے انتظار رہتا ہے۔ یہ وی پی این کیا چیز ہوتی ہے؟”

میں نے ہلکے، قدرے شوخ لہجے میں کہا،

“یہ ایک چھوٹا سا آلہ ہوتا ہے، جو دور بیٹھے بچوں کو ماں سے ملا دیتا ہے۔”

وہ لمحہ بھر سوچ کر بولی،

“یہ آلہ تو شاید آپ کے پاس پہلے سے موجود ہے۔”

“جی ہاں،” میں نے مسکرا کر کہا،

“اور اگر آپ چاہیں تو یہ آلۂ ملن میں آپ کے موبائل میں بھی لگا سکتا ہوں۔”

اس نے ایک نظر نرگس کی طرف دیکھا، پھر خاموشی سے اپنا موبائل میری طرف بڑھا دیا۔

چند ہی لمحوں بعد اسکرین پر ماں کا چہرہ روشن ہو گیا۔ دونوں بہنوں کی آنکھوں میں ایسی خوشی اتر آئی جیسے فاصلے اچانک سمٹ گئے ہوں،  اورجیسے پردیس کی دیوار میں یکایک ایک دریچہ کھل گیا ہو۔

اسی لمحے مجھے احساس ہوا کہ یہ محض ایک ویڈیو کال نہیں تھی، یہ ہماری دوستی کی پہلی گھنٹی تھی، جو خاموشی سے بج چکی تھی۔

وہ دونوں دیر تک اپنی ماں سے بات کرتی رہیں۔ کبھی ہنستیں، کبھی خاموش ہو جاتیں، اور پھر ایک دوسرے کو دیکھ کر ہاتھ ہلاتی رہتیں، جیسے اس اسکرین کے پار بیٹھے وجود کو آنکھوں ہی آنکھوں میں سمیٹ لینا چاہتی ہوں۔ آخر میں ماہ نور نے موبائل میری طرف بڑھایا اور کہا،

“امی آپ سے  بات کرنا چاہتی ہیں۔”

امی نے بات شروع کرتے ہی میرا شکریہ ادا کیا۔ میں نے رسمی انداز میں کہا،

“یہ تو کوئی خاص بات نہیں تھی۔”

میری بات پر وہ مسکرائیں، مگر اگلے ہی لمحے ان کی آنکھوں میں ایک گہری سنجیدگی سی اتر آئی۔ مجھے یوں لگا جیسے اس لمحے ان کی آنکھوں میں خوشی کے ساتھ ساتھ کوئی پرانا دکھ بھی جاگ اٹھا ہو۔ انہوں نے غمگین نظروں سے میری طرف دیکھا اور آہستہ سے کہا،

“بیٹا، ماہ نور اور نرگس کا خیال رکھنا۔ یہ پہلی بار اتنی دور نکلی ہیں۔”

ماں جی کے لہجے میں دعا بھی تھی اور ایک انجانی سی بےچینی بھی۔ اس لمحے ان تینوں کے لہجوں اور نگاہوں میں مجھے ایک عجیب سا قرب محسوس ہوا، جیسے وہ اوپر سے بہت مطمئن ہوں، مگر اندر کہیں خاموشی سے کوئی بڑا دکھ اٹھائے پھر رہی ہوں۔

بس میں ہم تین پاکستانیوں کے علاوہ، دنیا کے آٹھ اور ممالک سے آئے ہوئے مسافر بھی تھے، مگر سب سے یادگار روس کا نوجوان جوڑا الیگزے اورکاترینا کا تھا۔ الیگزے بولتا کم تھا، ہنستا اس سے بھی کم تھا، مگر اس کی خاموشی میں ایک عجیب سا مزاح چھپا ہوتا۔ وہ ہر لمحہ کاترینا کے اردگرد ایسے گھومتا رہتا جیسے اسے دنیا کی ہر ہوا سے بچانا اس کی ذمہ داری ہو۔ کاترینا اس کے برعکس بے حد ملنسار تھی، ہنسی اس کے چہرے سے جیسے کبھی جدا ہی نہ ہوتی۔

پھر کیمپ کی رات کیا آئی، کہ اس رات الیگزے نے سب کو حیران کر دیا۔ نہ کوئی باقائدہ اعلان، نہ ہی تالیاں، وہ بس اچانک اٹھا اور اکیلا ناچنے لگا۔ اس کا رقص بےترتیب توتھا ہی، مگر اتنا خالص اور بے ساختہ کہ ھم دیکھنے والے ہنس ہنس کر تھک گئے۔ اس رات ہمیں پہلی بار لگا کہ الیگزے کی خاموشی کے پیچھے ایک زندہ دل انسان چھپا بیٹھا ہے۔

“آپ سب تیاری کر لیں، چند ہی لمحوں میں ہم گوبستان نیشنل پارک پہنچنے والے ہیں۔”

بس ہوسٹس کی آواز بس میں گونجی، اور یوں ہمارے سفر کا پہلا پڑاؤ آ گیا۔

گوبستان ایک ایسا مقام تھا جہاں پتھر بولتے محسوس ہوتے تھے۔ چٹانوں پر کندہ چالیس ہزار سال پرانے نقوش اس بات کی گواہی دیتے تھے کہ یہاں انسان بہت پہلے اپنے نشان چھوڑ چکا تھا۔ شکار کے مناظر، رقص کرتی انسانی شکلیں، کشتی رانی اور جانور، سب کچھ یوں تھا جیسے وقت نے ایک لمحے میں خود کو پتھر پر محفوظ کر لیا ہو۔شاید اسی انفرادیت کے باعث گوبستان کو عالمی ورثے کا درجہ ملا تھا۔

 وہاں کھڑے ہو کر یوں لگتا تھا جیسے وقت پیچھے کی طرف بہنے لگا ہو، اور انسان اچانک اپنی اہمیت بھول کر تاریخ کے سامنے بہت چھوٹا سا وجود بن جائے۔

“ایسا لگ رہا ہے جیسے آپ یہاں پہلے بھی آ چکے ہوں؟”

نرگس نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔

میں چونک سا گیا، کیونکہ حقیقت یہ تھی کہ پچھلے چند منٹوں سے میں واقعی گوبستان کا ذکرکرنے میں کچھ زیادہ ہی کھو گیا تھا۔

“نہیں نرگس جی،”

میں نے ذرا جلدی میں کہا،

“پہلی بار ہی آیا ہوں، بس کتابوں اور یوٹیوب سے شوق پورا کر رکھا ہے۔”

وہ مسکرا دیں، جیسے بات سمجھ گئی ہوں۔

میں نے فوراً موضوع بدلتے ہوئے کہا،

“کہتے ہیں یہاں لوگ اپنے نام بھی کندہ کیا کرتے تھے۔ نرگس اور عطاء جیسے نام تو پرانے ہیں، شاید ہمیں کہیں کوئی نشان مل جائے۔ مگر ماہ نور… یہ نام تو لگتا ہے کافی بعد میں آیا، جب دنیا نے روشنی کا مطلب سیکھ لیا تھا۔”

دونوں بہنیں ہنس پڑیں، اور مجھے اندازہ ہوا کہ گائیڈ بننے کی ناکام کوشش میں، میں ان کا دوست بن چکا تھا،  وہ دونوں میری بے ربط باتیں اس توجہ سے سن رہی تھیں، جیسے میں جو کچھ کہہ رہا ہوں وہ سب بالکل سچ ہو۔

ہزاروں برسوں میں بکھری اس تاریخ کے اندر کتنی ہی کہانیاں سانس لے رہی تھیں۔ ہم ایک خاص چٹان کے سامنے جا کر رک گئے۔ اس پر ایک انسانی شکل تراشی گئی تھی، بازو پھیلائے، جیسے کسی رقص کے عین لمحے وقت نے اسے وہیں جما دیا ہو۔ میں دیر تک اس نقش کو دیکھتا رہا کہ اچانک ماہ نور نے ہلکی سی کھانسی کی اور شرارت سے بولی،

“آپ کو نہیں لگتا

یہ بندہ بالکل آپ جیسا کھڑا ہے؟ ہاتھ کی انگلی گھمائے، جیسے کوئی بات پوری شدت سے ایکسپلین کرنے کے موڈ میں ہو۔”

میں ہنس پڑا، اورکہا،

“فرق بس اتنا ہے کہ یہ چالیس ہزار سال سے ایک ہی بات سمجھا رہا ہے، اور تم اب تک نہیں سمجھی۔”

ماہ نور فوراً بولی،

“نہیں نہیں، میں نے سمجھ لی ہے۔ یہ بھی خود کو پروفیشنل گائیڈ ہی سمجھتا ہوگا۔”

نرگس نے بے ساختہ قہقہہ لگایا، اور میں لاجواب ہو کر سر کھجانے لگا۔

ہم اس قدر ماضی میں اتر چکے تھے کہ وقت جیسے ہمارے لیے رک گیا ہو۔ تاریخ ہمارے قدموں کے نیچے تھی اور ہم اس میں محو تھے کہ اچانک نرگس کا قدم ڈگمگایا کہ جیسے گرنے والی ہو۔

“آپا، آپ ٹھیک ہیں؟”

ماہ نور کی آواز میں گھبراہٹ صاف سنائی دی۔

“ہاں، کچھ نہیں ہوا،”

نرگس نے خود کو سنبھالتے ہوئے کہا،

“بس بہت تھک گئی ہوں۔ کچھ دیر آرام کرنا چاہتی ہوں۔ کیا آپ لوگ مجھے بس سلیپر میں چھوڑ آئیں گے؟”

ماہ نور نے میری طرف دیکھے بغیر فوراً کہا،

“چلیے، ہم چھوڑ آتے ہیں۔”

ہم نرگس کو بس کے سلیپر میں چھوڑ آئے۔ واپس آ کر ہم ایک بنچ پر بیٹھ گئے۔ گوبستان کی خاموشی اچانک کچھ زیادہ ہی گہری محسوس ہونے لگی۔

نرگس کے قدم بس کی طرف بڑھے تو اس کے چہرے پر اچانک ایک سنجیدگی اتر آئی تھی، اور ماہ نور کارنگ اُڑا ہوا تھا۔

“ماہ نور… نرگس کو کیا ہوا ہے؟”

میں نے بے ساختہ پوچھ لیا۔

وہ میری بات سن کر ٹھٹھک سی گئی۔ اس کی آنکھیں بھر آئی تھیں، اور چہرے پر وہ درد صاف دکھائی دیا، جوشائید اب تک مسکراہٹوں کے پیچھے چھپا ہوا تھا۔ اس نے آہستہ سے آنسو پونچھے، بس کی طرف ایک طویل، کرب ناک نگاہ ڈالی اور کہا،

“میں جو بات کہنے لگی ہوں، آپ اسے اپنے دل میں ہی رکھیں گے۔ نہ کسی سے کہیں گے، نہ کبھی نرگس کو اس کا احساس ہونے دیں گے۔”

چند لمحوں کی خاموشی کے بعد اس کے ہونٹ کانپے،

“یہ… نرگس کا آخری سفر ہے۔”

لفظ اس کے منہ سے نکلے تو جیسے اس کی ہمت بھی ٹوٹ گئی۔ اس نے چہرہ ہاتھوں میں چھپا لیا اور بچوں کی طرح رونے لگی، بے آواز نہیں، پوری شدت کے ساتھ۔ اس کے چہرے پر وہ غم صاف نظر آ رہا تھا جو مدتوں سے ہنسی کی اوٹ میں چھپا ہوا تھا۔

نرگس کا کینسر آخری مرحلے میں تھا۔ ڈاکٹرز کے پاس اب کوئی جواب نہیں تھا۔ شاید ایک مہینہ، شاید اس سے بھی کم وقت باقی تھا۔ ماہ نور چاہتی تھی کہ اس وقت سے پہلے نرگس وہ سب دیکھ لے جو وہ ہمیشہ دیکھنا چاہتی تھی۔ یہ جانتے ہوئے کہ یہ ان دونوں کا اکٹھا آخری سفر ہے، میں ان کی حوصلہ مندی اور زندہ دلی پر حیران سا رہ گیا۔

میں نے آہستگی سے کہا،

“ماہ نور جی، آنسو پونچھ لیجیے۔ ایسا کچھ نہیں ہوگا۔ نرگس جی بہت لمبی عمر پائیں گی۔”

میں جانتا تھا یہ الفاظ حقیقت سے زیادہ خواہش تھے، مگر اس لمحے خواہش ہی سہارا بن سکتی تھی۔

اس کے آنسو میری اس بات پہ کہاں رکنے والے تھے۔ وہ نرگس کے ساتھ اس آخری سفر پر تھی جس کے بعد دونوں کا جدا ہونا طے تھا۔

میں نے بات کو سہارا دینے کے لیے اپنی ساری ادھوری سی علمیت سمیٹی اور بولا:

“تمہیں معلوم ہے، آج سائنس نے مان لیا ہے کہ موت کوئی فوری فیصلہ نہیں۔ آج تومردے بھی زندہ ہو رہے ہیں، تو ہم ایک زندہ انسان کو ہار مان کر موت کو کیوں سونپ دیں؟”

میں نے بات جاری رکھی،

“تمہیں شائید معلوم نہیں کہ انیس سو بیاسی (1982) تک جونہی انسان کا دل رک جاتا تھا، سائنس اسے مردہ قرار دے دیتی تھی۔ مگر اس سال ایک عجیب واقعہ ریکارڈ ہوا، برطانیہ میں ایک نوجوان دل کی حرکت بند ہونے سے مرا، ڈاکٹرز نے اسے مردہ ڈیکلئیر کر دیا، مگر اس کی ماں نے روتے ہوئے، اپنے مردہ بیٹے کو بس سینے سے لگا کر زور سے بھینچا، کہ نہ جانے کہاں سے اور کیسے دل کو دوبارہ ایک برقی سگنل ملا، دماغ تک آکسیجن پہنچی، اور وہ نوجوان آنکھیں ملتے ملتے ماں سے باتیں کرنے لگا۔

سائنس نے اس پر تحقیق شروع کر دی اور اسے  Lazarus Phenomenon کا نام دیا، اور تب مانا کہ موت کے اعلان کو بھی ایک خاص وقت چاہیے۔”

میں ذرا رکا، پھر کہا،

“ آج تک اسکے کئی ہزار کیسز ریپورٹ ہو چکے۔ ڈاکٹر حیران تھے۔ ان کی CPR ناکام ہو چکی تھی، مشینوں پر دل کی موت ریکارڈ ہو چکی تھی، مگر دل تھا کہ مانا ہی نہیں، پھر سے دھڑکنے لگا۔”

میں نے بات بڑھاتے ہوئے کہا،

“Lazarus کا نام بھی انہوں نے سوچ سمجھ کر رکھا۔ یہ حضرت لعزرؑ سے منسوب ہے، جن کا ذکر انجیلِ مقدس (New Testament) میں آتا ہے۔ وہ حضرت عیسیٰؑ کے زمانے کے ایک بزرگ تھے۔ روایت ہے کہ وہ وفات پا چکے تھے، اور حضرت عیسیٰؑ نے اللہ کے حکم سے انہیں دوبارہ زندہ کیا۔”

پھر میں نے سرگوشی میں اضافہ کیا، اور کہا،

“اورسائنس کی Terminal Lucidity ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ موت اتنی بھی سیدھی لکیر نہیں ہوتی جتنی کہ  سمجھی جاتی ہے، مرنے والے کو موت سے پہلے بہت کچھ یاد آ جاتا ہے اور بہت کچھ  نظر آ جاتا ہے،  ابھی تو سائنس خود شعور کی سرحدوں پر، Quantum Theories of Consciousness میں بھٹک رہی ہے۔”

آخر میں میں نے وہ بات کہی جس پر خود میرا بھی یقین ٹکا ہوا تھا،

“اللہ نے کوئی بیماری ایسی نازل نہیں کی، جس کا علاج بھی نازل نہ فرمایا ہو۔”

اور “ شاید یہ سفر، یہ اچانک ملاقات، اسی علاج کی تلاش کا آغاز ہے۔”

میں ایک ہی سانس میں سائنس اور دین، جو کچھ بھی مجھے معلوم تھا، سب کہہ گیا۔ میں نے سمجھا تھا میری باتیں شاید ہوا میں اڑ جائیں گی، مگر اس کے برعکس وہ ماہ نور پر امید بن کر نازل ہوئیں۔

اس نے مجھے نہایت پیار اور اعتماد سے بھری نگاہوں سے دیکھا، جیسے میں نے ایک لمحے میں اس کا سب سے بڑا ڈر نکال دیا ہو۔ اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے وہ بولی-

“تم ٹھیک کہتے ہو۔ میں اب ہار نہیں مانوں گی۔ نرگس زندہ رہے گی، اور میں اس کے ساتھ ہر لڑائی لڑوں گی۔”

ہم بنچ پر بیٹھے باتوں میں گم تھے کہ اچانک ایک سایہ سا ہمارے سامنے آ ٹھہرا۔ چین سے تعلق رکھنے والا چن ہاؤ تھا، کندھوں سے لٹکتا کیمرہ، آنکھوں میں لمحوں کو قید کرنے کی وہ مخصوص چمک۔ اس نے کیمرے کی پٹی سیدھی کی اور مسکرا کر پوچھا،

“کیا میں آپ دونوں کی ایک تصویر لے سکتا ہوں؟”

“کیوں نہیں؟”

میرے کچھ کہنے سے پہلے ہی ماہ نور بولی اور تصویر کے لیے خود کو درست کرنے لگی۔

وہ تصویر آج بھی میرے موبائل میں محفوظ ہے۔ میں جب بھی اسے دیکھتا ہوں،  خود کو گوبستان کے اسی بنچ پربیٹھا ہوا پاتا ہوں۔

ویسے اس بس میں دو ایسے کردار بھی تھے جو جہاں ہوتے، منظر خودبخود بولنے لگتا۔ ایک چین کا چن ہاؤ، دو سرا جاپان کا کینجی۔ دونوں فوٹوگرافی کے اسیر تھے، مگر آپس میں سخت رقیب۔ ایک تصویر لیتا تو دوسرا فوراً اس سے بہتر زاویہ ڈھونڈنے میں لگ جاتا۔

 ان دونوں کی نظر جونہی ایک دوسرے پر پڑتی، یوں لگتا جیسے کسی نے کرنٹ لگا دیا ہو۔ کبھی چن ہاؤ کی آواز بلند ہو جاتی، کبھی کینجی ہاتھوں کے اشاروں سے پورا منظر سمجھانے لگتا، اپنی اپنی زبان میں کچھ ایسے الجھتے کہ الفاظ سمجھ میں نہ آتے، مگر لہجے اتنے واضح ہوتے کہ ہم سب ہنس ہنس کر دوہرے ہو جاتے۔ تصویروں کی صورت میں سب سے زیادہ یادیں سمیٹنے والے بھی یہی دو تھے۔

 گوبستان پیچھے رہ گیا تھا، مگر اس کی خاموش تاریخ بس کے اندر تک چلی آئی تھی۔ نرگس اب خاصی بہتر لگ رہی تھیں ۔ ماہ نور کی پیشانی سے وہ انجانی الجھن ہٹ چکی تھی، وہ کبھی مجھے اییسے دیکھتی جیسے کوئی بات سوچ رہی ہو، پھر خاموشی سے شیشے سے باہردیکھنے لگتی ۔ ھماری اگلی منزل شاماخی کی حسین وادی تھی۔

میں نے ہلکے سے کہا،

“نرگس جی، شاماخی کا نام سنا ہے کبھی؟”

وہ مسکرائی،

“نہیں، مگر آپ کے انداز سے لگ رہا ہے کہ آپ اسکے بھی گائیڈ رہے ہیں۔”

لفظ گائیڈ ابتک میری چھیڑ ہی بن چکی تھی۔

میں نے خود کو سنبھالتے ہوئے کہا،

“عام حالات میں تو میں مفت لیکچر نہیں دیتا،مگر آپ لوگ کیا یاد رکھیں گے، آپ کے بھرپوراصرار پر مفت میں اس کی تفصیلات بتائے دیتا ہوں۔

“ارشاد… ارشاد،”

نرگس فوراً بولیں، اور ماہ نور کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی۔

شاماخی شہر کبھی، کئی ہزار سال پہلے، شروان شاہوں (Shirvanshahs) کا دارالحکومت رہا، علم، شاعری اور تجارت کا مرکز۔ ویسے اگر آپ اس ویک اینڈ تک باکو ہیں تو میں اپکو” Shirvanshah “Restaurant ضرور لے کر جانا چاہوں گا، جو کہ باکو میں واقعی ہی ایک “مسٹ وزٹ پلیس” ہے۔

انہوں نے اثبات میں سر ہلایا تو میں نے بات آگے بڑھائی۔ شاماخی کی پہاڑیاں سرسبز و شاداب وادیوں میں اترتی ہیں، جیسے یہ کسی اور دنیا کا حصہ ہوں، جہاں پریاں اور جن رہتے ہوں۔

میں نے شرارت سے کہا

“لیکن گھبرانے کی بات نہیں، میرے ان سے تعلقات بہت اچھے ہیں۔”

 اور وہ دونوں کھلکھلا کر ہنس پڑیں۔

ماہ نور نے آہستہ سے کہا،

“میں نے سنا ہے یہاں کے انگور باغات (vineyards) اور سادہ روایتی طرزِ زندگی بہت مشہور ہیں، اور لوگ ایسے ہیں کہ اجنبیت محسوس ہی نہیں ہوتی۔”

اسی دوران بس ہوسٹس نے چائے اور سنیکس دیتے ہوئے پوچھا،

“آپ کا سفر کیسا جا رہا ہے؟”

میں نے جواب دیا،

“سفر تو شاندار ہے، آپ کا ملک بھی حسین ہے اور اس بس کے مسافر بھی بہت خاص۔”

“اور آپ کی دی ہوئی چائے بھی،”

ماہ نور نے فوراً لقمہ دیا۔

ہوسٹس مسکرا کر اگلی سیٹ کی طرف بڑھ گئی۔

نرگس جو کہیں گم تھی اچانک بولی،

“عطاء صاحب، یہ شہر زلزلوں کا بھی گواہ رہا ہے نا؟”

میں نے سر ہلایا

“جی ہاں، ماضی میں زلزے بھی آئے، مگر یہی اس شہر کی پہچان بن گئی ہے۔ یہ بار بار گرا، اور ہر بار دوبارہ کھڑا ہو گیا۔ اسی لیےمقامی لوگ کہتے ہیں،

شاماخی وہ ضدی شہر ہے جو کبھی مرتا نہیں، ٹوٹتا ہے مگر بکھرتا نہیں،  ہر بار پہلے سے زیادہ دلکش ہو کر کھڑا ہو جاتا ہے۔”

نرگس کچھ دیر خاموش رہیں، پھر دھیرے سے بولی،

“پتھر کی جگہیں تو ٹوٹنے کے بعد جڑ کر اور دلکش ہو جاتی ہیں، مگر جب انسان ٹوٹ جائے، خاکستر ہو جائے، تو کبھی واپس نہیں جوڑ سکتا۔”

یہ سن کر میں اور ماہ نور چونک گئے۔ ھم سمجھ گئے کہ وہ اپنے مرنے کی بات کر رہی تھی، میں نے ہمت جمع کی اور کہا:

“نرگس جی، جو خدا انسان کے ہاتھوں ان ٹوٹی ہوئی جگہوں کو دوبارہ کھڑا کر سکتا ہے، وہ ٹوٹتے انسان کو کیوں نہیں؟ انسان نے نہ خود کو اور نہ خدا کو ابھی پوری طرح ایکسپلور کیا ہے۔ انسان کی مٹی خدا کے ہاتھوں کی گوندھی ہوئی ہے، یہ بہت مضبوط ہے، اسے اتنا ہلکا مت لیجیے۔”

ماہ نور نے دھیرے سے سر ہلایا۔ اس کے چہرے پر ابھرتا سکون اور لبوں پر ٹھہری ہوئی نرم سی مسکراہٹ گویا یہ کہہ رہی تھی کہ میرے لفظ اس کے دل تک اتر گئے ہیں۔ نرگس البتہ خاموش ہو گئی، ایسی خاموشی جو بات ختم ہونے کی نہیں بلکہ کسی اندرونی مکالمے کے شروع ہونے کی علامت ہوتی ہے، جیسے وہ ان باتوں کو دل میں رکھ کر خود سے کوئی نیا سوال پوچھ رہی ہو۔

ابھی سہ پہر کا وقت تھا کہ ہم تینوں، باقی مسافروں کے ساتھ، شاماخی کی خوبصورت وادی میں اترے۔

شاماخی میرے تخیل سے کہیں زیادہ حسین نکلا۔ یہاں پہنچ کر چن ہاؤ اور کینجی جیسے فوٹوگرافی کے دیوانے بھی چند لمحوں کے لیے اپنے کیمروں کو بھول گئے۔ شاید کچھ مناظر ایسے ہوتے ہیں جنہیں لینز میں قید کرنے کے بجائے آنکھوں کے ذریعے دل میں اُتار لینا زیادہ بہتر ہوتا ہے۔

بس کے مسافروں میں انگلینڈ سے آئے انکل سیموئیل بھی تھے۔ چہرے پر پھیلی مستقل معصوم مسکراہٹ، نرم آواز، اور عجیب سا اطمینان، وہ واقعی ہماری اس سیاح فیملی کی جان تھے۔ دنیا کی ہر بیماری کا علاج جڑی بوٹیوں میں تلاش کرنے والے انکل سیموئیل کو دیکھ کر یوں لگتا تھا جیسے وہ اس سفر پر بھی کسی نایاب پودے کی تلاش میں نکلے ہوں۔ شاماخی میں انہوں نے پورا  وقت ہمارے ساتھ ہی گزرا۔

ماہ نور جو کہ فطری طور پر ایڈونچر پسند تھی۔ اس نے پہنچتے ہی بے ساختہ کہا،

“کیا ہم اس پہاڑ کی چوٹی پر جا سکتے ہیں، جہاں بم ان بادلوں کو چھو سکیں؟

انکل سیموئیل نے دونوں ہاتھ کھول کر، جیسے اس تجویز کو گلے لگا رہے ہوں، فوراً کہا

“Why not, this is in fact a great idea!”

میں اور نرگس ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرا دیے، جیسے اب انکار کی کوئی گنجائش نہیں رہی۔ یوں ہم چاروں پہاڑ کی سمت چل پڑے۔

تقریباً ایک گھنٹے کی مسلسل چڑھائی کے بعد ہم خاصی اونچائی پر پہنچ گئے۔ سامنے ایک ایسا منظر تھا جسے دیکھ کر سانس خود بخود آہستہ ہو جاتی ہے۔ بادل ہمارے قریب آ چکے تھے، سبزہ حدِ نگاہ تک پھیلا ہوا تھا، اور پہاڑوں کے بیچ گھاس کی ایک ہموار سی جگہ، جیسے قدرت نے خاص ہمارے لیے بیٹھنے کو چھوڑ رکھی ہو۔ ہم نے چٹائی بچھائی اور وہیں ڈیرے ڈال دیے۔

ہم ابھی بیٹھے ہی تھے کہ دیکھا، ہمارے گروپ کے مقامی آذربائجانی لڑکے لڑکیاں بھی پیچھے پیچھے آ پہنچے تھے۔ تین لڑکے — الیوف، ایلدار اور الیار — اور دو لڑکیاں — آئدا اور سویل۔ آئدا کی شادی الیوف سے، اور سویل کی ایلدار سے ہونے والی تھی۔ وہ بے تکلفی سے ہمارے پاس آ گئے۔

الیار نے مسکراتے ہوئے پوچھا:

“کیا ہم بھی آپ لوگوں کو جوائن کر سکتے ہیں؟”

میں نے فوراً کہا:

“جی بالکل، آ جائیے، محفل خوب جمے گی۔”

آذربائجان کے لوگوں کا پاکستانیوں سے خلوص ہمیں ہر جگہ محسوس ہو رہا تھا۔

ماہ نور نے سب کی طرف دیکھ کر کہا:

“آپ سب چٹائی پر بیٹھ جائیے، میں آپ سب کے لیے چائے بناتی ہوں۔”

وہ پورا چائے کا سامان پہلے ہی ساتھ لیے گھوم رہی تھی۔ بادلوں کے درمیان، اسے مقام پر بیٹھ کر چائے پینا اس کی ایک پرانی خواہش تھی، جو آج پوری ہو رہی تھی۔

ہم سب دائرے میں بیٹھ گئے۔ انکل سیموئیل نیم بادلوں میں بھی زمین پر جھک جھک کر جڑی بوٹیاں ڈھونڈ رہے تھے، جیسے زندگی کا سب سے اہم مشن یہی ہو۔ ماہ نور تھوڑے فاصلے پر چولہے کے پاس بیٹھ کر چائے ابال رہی تھی، اور باقی سب ہنسی مذاق اور باتوں میں مصروف ہو گئے۔

اچانک الیار نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا:

“کیا ہم یہاں بس بیٹھے ہی رہیں گے؟ ایک کھیل ہے… پہاڑوں کا۔”

ہم سب نے سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔

سویل نے فوراً وضاحت کی:

“اسے یالّی کہتے ہیں۔ اس میں جیت ہار نہیں ہوتی، بس قدم ملانے ہوتے ہیں۔”

الیار نے زمین پر ہلکی سی ٹھک ٹھک کی، جیسے تال بتا رہا ہو،

“دائرہ بنائیے اور ہاتھوں میں ہاتھ ڈالئے، بس اتنا ہی۔”

ہم سب کھڑے ہو گئے۔ بادل ہمارے بیچ سے گزر رہے تھے۔ ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر دائرہ بنا۔ انکل سیموئیل جڑی بوٹیوں کی تلاش چھوڑ کر بھاگتے ہوئے آئے اور ہنستے ہوئے بولے،

“Guys, I’m bad with rhythm, but excellent with circles”

دائرہ مکمل ہوا تو الیار نے آہستہ سے کہا،

“دو قدم دائیں، ایک بائیں، ایک پیچھے… پہلے آہستہ، پھر تیز۔ بس دل نہ چھوڑنا۔”

تال شروع ہوئی۔ منہ سے ساز، قدموں کی ہلکی آوازیں، اور ہنسی کے وقفے۔ کسی کا قدم آگے نکل جاتا، کسی کا پیچھے رہ جاتا۔ انکل سیموئیل تال بھول جاتے اور ہم سب قہقہہ لگا دیتے۔ دائرہ لمحہ بھر کو بکھرتا، پھر خود ہی سنبھل جاتا۔

اسی لمحے ماہ نور کی آواز آئی،

“میں بھی؟”

وہ کیتلی ایک طرف رکھ کر آئی۔ اس کے ہاتھ چائے کی گرمی سے سرخ تھے، مگر آنکھوں میں وہی شوخی۔ اس نے سویل اور انکل سیموئیل کا ہاتھ پکڑا، اور دائرہ ذرا سا پھیل گیا،  جگہ خود بخود ہی بن گئی۔

الیار نے تال پھر سے دی۔

اس کے قدم پہلے جھجکے، پھر تال میں آ گئے۔ وہ یالّی کھیلتے بچوں کی طرح ہنستی  رہی۔ ایسی ہنسی جو کانوں کو خوشگوار لگتی،  قدم مل رہے تھے یا نہیں، یہ اہم نہیں تھا , کوشش مل رہی تھی۔

کافی دیر بعد قدم آہستہ ہوئے، پھر رک گئے۔ ہم سب کچھ لمحے وہیں کھڑے رہے، ہاتھوں میں ہاتھ لیے، جیسے دائرہ ابھی بھی قائم ہو، بس حرکت تھم گئی ہو۔

کچھ دیر میں ، ماہ نور نے کیتلی اٹھائی اور کہا:

“چائے تیار ہے۔”

انکل سیموئیل نے نہایت سنجیدگی سے سر ہلایا:

“This… this is medicine.”

ہم سب بے اختیار ہنس پڑے۔

شاماخی کی اس پہاڑی پر، اس لمحے، یالّی کوئی کھیل نہیں تھا۔ یہ ایک یاد بن چکا تھا، ایسی یاد، جو ہم سب اپنے اپنے شہروں تک ساتھ لے جانے والے تھے۔

چائے پیتے ہوئے، ہم تینوں ذرا الگ سے ہو کر بیٹھ گئے۔ بادل اب بھی ہمارے قریب تھے، مگر ہوا میں وہ تیزی نہیں  رہی تھی۔

نرگس نے کپ دونوں ہاتھوں میں تھاما اور مسکرا کر کہا،

“یہ چائے یہاں زیادہ اچھی لگتی ہے، یا میں ہی آج کچھ بدل گئی ہوں؟”

میں نے جواب دیا،

“شاید اس جگہ نے اور ماہ نور کی چائے پلانے کی بےلوث آفر نے اسے مزید اچھا بنا دیا ہے۔”

ماہ نور ہنس پڑی۔

“یا شاید ہم سب پہلی بار بادلوں کے ساتھ بیٹھ کر چائے پی رہے ہیں۔ بادلوں میں چائے پینے کی خواہش پوری ہو جائے گی، یہ میں نے کبھی سوچا ہی نہیں تھا۔”

نرگس نے ایک گھونٹ لیا۔ کچھ دیر خاموش رہیں، پھر بولیں،

“مجھے ہمیشہ لگتا تھا خوشی بہت بڑا لفظ ہے۔ آج لگ رہا ہے، یہ اتنی سی بھی ہو سکتی ہے۔”

میں نے ان کی طرف دیکھ کر کہا،

“کبھی کبھی خوشی بس اتنی ہوتی ہے کہ بات کرنے کو کچھ نہ ہو، بس دوست ساتھ ہوں، پسندیدہ جگہ ہو، خاموشی ہو، اور دل کی دل سے بات ہو جائے۔”

ماہ نور چمچ گھماتے ہوئے بولی،

“خوشی باہر نہیں ہوتی۔ وہ اندر کہیں چھپی ہوتی ہے۔ بس اپنے دل میں جھانکنا آنا چاہیے۔”

ماہ نور دیکھنے میں جتنی پُرکشش اور باوقار لڑکی تھی، باتوں اور اداؤں میں اس سے کہیں زیادہ گہری اور حسین تھی۔ وہ ایسی تھی کہ اس سے بے ساختہ بات کرنے کو دل چاہتا۔

نرگس نے ہلکی سی ہنسی کے ساتھ اس کی بات پر سر ہلایا اور بولی،

“بھاری باتیں اب مجھے تھکا دیتی ہیں۔ آج دل چاہتا ہے کہ ہلکی ہی رہوں۔”

میں نے کہا،

“تو پھر آج ہم کوئی سنجیدہ بات نہیں کریں گے۔”

ماہ نور فوراً بولی،

“بالکل نہیں کریں گے۔ بس یہ بتائیے کہ چائے میں چینی ٹھیک ہے، کم زیادہ تو نہیں؟”

میں سمجھ گیا کہ وہ دراصل چائے کی تعریف سننا چاہ رہی تھی۔

میں نے شرارت سے کہا،

“چینی کا نام مت لو ماہ نور، وہ آ گیا تو سب کو اس کے ساتھ تصویریں بنوانا پڑیں گی، اور وہ بھی مختلف پوز بنا بنا کر۔”

وہ دونوں بے اختیار ہنس پڑیں۔

میں نے آہستہ سے کہا،

“ ویسے ماہ نور، جیسے تم خود اچھی ہو، چائے بھی ویسی ہی بنائی ہے۔ پی کرساری تھکن ایک دم اتر گئی ہو جیسے ”

ماہ نور نے جواب دیا،

“میری بہت خواہش تھی کہ ایسے حسین مقام پر بیٹھ کر چائے پیوں، مگر اتنے اچھے ساتھی ہوں گے ساتھ، یہ میں نے کبھی نہیں سوچا تھا۔

چائے اب ختم ہو چکی تھی۔ شاماخی کی اس پہاڑی پر، اس چائے کے کپ نے ہم تینوں کو کچھ دیر کے لیے وقت سے آزاد کر دیا تھا۔

اچانک انکل سیموئیل بولے،

“خواتین و حضرات، ہمیں اب چلنا چاہیے۔ یہاں مجھے میری خاص جڑی بوٹی مل گئی ہے۔”

انہوں نے ہاتھ میں پکڑا ننھا سا گچھا دکھایا۔ اور بولے

“یہ ہےجنگلی تھائم،سانس، تھکن، اور دل کے بوجھ کے لیے، اسےیہاں کیکلیک اوتو کہتے ہیں۔”

 باریک ڈنڈیوں پر جمی چھوٹی چھوٹی ہلکے سبز رنگ کی پتیاں، کناروں سے ذرا سی مڑی ہوئی، اور ان کے بیچ بیچ ننھے جامنی مائل پھول، اتنے نازک کہ ہلکی سی جنبش پر کانپ اٹھیں۔ انکل اسے بار بار سونگھتے، جیسے یقین کر رہے ہوں کہ یہ واقعی انہیں مل گئی ہو۔

وہ ابھی اس کی افادیت بیان ہی کر رہے تھے کہ ہم سب ان کے خلوص پر مسکرا اٹھے۔ بیگ پہلے ہی سمیٹے جا چکے تھے۔ ہم نے آخری بار اس جگہ کو دیکھا، اور واپسی کی سمت چل پڑے-

ہمارا آخری پڑاؤ رات کو گردیمنچائے کے کیمپ ولیج میں تھا۔ شاماخی سے گردیمنچائے ندی تک کا سفر غیر معمولی طور پر خاموش گزرا۔ دن بھر کی مسافت کے بعد ماہ نور اور نرگس دونوں خاصی تھک چکی تھیں، اس لیے بس کے ہموار راستے کے ساتھ ہی وہ گہری نیند سو گئیں۔

مجھے ابھی کسی اور سے بات کرنی تھی۔

ہماری ساتھ والی سیٹ پر انڈیا سے آیا نیا شادی شدہ جوڑا، شوانی اور دھیرج، بیٹھا تھا، جو اپنی پہلی ہنی مون منانے اس ٹور پر آئے ہوئے تھے۔ ان کے ساتھ دھیرج کی والدہ، ساریکا جی، بھی تھیں۔ خوش مزاج، زندہ دل اور اس قدر گھل مل جانے والی کہ ماں سے زیادہ انکی دوست لگتی تھیں۔۔ عمر میں اگرچہ وہ کچھ بڑی تھیں، مگر دیکھنے میں خاصی جوان لگتیں۔ اوپر سے ان کی باتیں اور حرکات ایسی تھیں کہ بے ساختہ ہنسی آ جاتی۔ کبھی وہ شوانی کے ساتھ باتیں کرتے ہوئے ہاتھ پر ہاتھ مار کر ہنستیں، کبھی دھیرج کو چھیڑتیں۔

اچانک وہ میری طرف دیکھ کر مجھ سے مخاطب ہوئیں،

“کیا آپ لوگ پاکستان سے ہو؟”

میں نے کہا،

“جی ہاں، ہم لوگ اسلام آباد سے ہیں۔”

یہ بات سنتے ہی ان کی آنکھوں میں ایک پہچان سی جاگ اٹھی، جیسے کسی بھولی بسری یاد نے دستک دی ہو۔ وہ  بتانے لگیں کہ ان کی پوری فیملی پاکستانیوں سے خاص انس رکھتی ہے، اور یہ بھی کہ ان کے آباؤ اجداد کبھی فیصل آباد، پاکستان میں آباد تھے۔

ساریکا جی نے مسکراتے ہوئے کہا۔

“ہُم لوگ ممبئی سے ہیں۔ دھیرج کے پِتا نہیں رہے، اب ہم ہی اس کے لیے ماتا بھی ہیں اور پِتا بھی۔”

انہوں نے یہ کہتے ہوئے دھیرج کی طرف اشارہ کیا اور جواباً میں نے سر ہلا کر دھیرج کو سلام کیا۔

ساریکا جی نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا،

“ہم لوگوں  کو آپ کے پاکستان کی دو چیزیں بہت پسند ہیں۔ ایک لاہور کی نہاری، اور دوسرے آپ کے سابقہ وزیر اعظم اور لیجنڈ کپتان عمران خان۔

یہ کہتے ہوئے ان کے لہجے میں ایک جوش سا آ گیا۔

“میرے پاس ان کا آٹوگراف بھی ہے، اور تصویر بھی۔”

وہ موبائل میں تصویریں ڈھونڈنے لگیں، اور کچھ ہی لمحوں بعد عمران خان کے ساتھ کھنچی ہوئی اپنی جوانی کی تصویر دکھا دی، تصویر میں انکی خوشی دیدنی تھی۔ جسیے یہ انکے لیے بہت خاص لمحہ ہو۔

میں نے مسکرا کر کہا،

“مجھے بھی آپ کےملک کے لیجنڈ ایکٹر امیتابھ بچن جی بہت پسند ہیں، مگر میرے پاس نہ ان کا آٹوگراف ہے اور نہ ہی کوئی تصویر۔”

یہ سن کر وہ کھلکھلا اٹھیں۔ فوراً موبائل اسکرول کیا، اور اگلی تصویر میں وہ امیتابھ بچن کے ساتھ کھڑی تھیں۔

“آپ انڈیا آئیے،” انہوں نے شوخی سے کہا،

“ہم آپ کی بھی تصویر بنوا دیں گے، مگر ایک شرط ہے۔”

“کون سی؟” میں نے پوچھا۔

وہ مسکرا کر بولیں،

“جب ہم پاکستان آئیں گے تو آپ نے ہماری نئی تصویر خان صاحب کے ساتھ ضرور بنوانی ہے۔”

میں مسکرا دیا اور کہا،

“میری اتنی پہنچ نہیں کہ اس حسین انسان سے کبھی مل بھی سکوں، مگر پاکستان میں میں آپ کا بہترین میزبان اور گائیڈ ضرور بن سکتا ہوں۔”

ہم دیر تک باتیں کرتے رہے۔ اجنبیت کہیں پیچھے رہ گئی تھی۔ آخر میں میں نے ان کے ساتھ ایک یادگار تصویر بنوائی، فون نمبرز ایکسچینج کیے، اور وعدہ کیا کہ یہ ملاقات یہیں ختم نہیں ہوگی۔

اتنے میں بس ہوسٹس نے اعلان کیا،

“گردیمنچائے آنے والا ہے، آپ سب ایک شاندار رات کے لیے تیار ہو جائیں۔”

میری نظر بے اختیار دونوں بہنوں پر پڑی، جو ابھی تک مزے سے سو رہی تھیں، اس آنے والی رات سے بالکل بے خبر۔

“ماہ نور… ماہ نور،”

میں نے آہستہ سے اسے آواز دی۔

اس نے نیند اور بیداری کے بیچ ایک لمبی انگڑائی لی، پلکیں جھپکائیں، گھڑی پر نظر ڈالی اور ہلکے سے چونکی،

“اتنی دیر سو گئی؟ کیا واقعی دو گھنٹے گزر گئے؟”

میں نے مسکراتے ہوئے کہا،

“اُٹھ جاؤ، گردیمنچائے قریب ہے۔ اور ہاں، آج رات ہمیں نرگس کو ایک سرپرائزدینا ہے۔”

یہ سننا تھا کہ اس کے چہرے پر جیسے روشنی پھیل گئی۔ آنکھوں میں نیند کی جگہ چمک آ گئی، اور لہجے میں وہی مانوس جوش لوٹ آیا۔ وہ فوراً پلان بنانے لگی، سوال پر سوال، تجاویز پر تجاویز، اور یوں لگنے لگا جیسے ایک معصوم سی خوشی اس کے اندر جاگ اٹھی ہو۔

گردیمنچائے ایک غیر معمولی طور پر پُرکشش جگہ تھی۔ شام ڈھلتے ہی اس منظر میں ایک خاموش سا ٹھہراؤ آ گیا تھا۔ چاروں طرف قدرتی میڈوز ایسے بچھے تھے جیسے زمین نے سبز چادر اوڑھ لی ہو۔ ان کے بیچ ایک شفاف پہاڑی ندی بہہ رہی تھی، جس کا پانی اتنا صاف تھا کہ نیچے پڑے پتھر گنے جا سکتے تھے۔ ندی کے بہاؤ میں روشنی ٹوٹ کر چمکنے لگتی، جیسے پانی خود آئینہ بن گیا ہو۔

ہم نے ٹور سروس کے عملے کے ساتھ مل کر لمحوں میں ایک ٹینٹ ولیج کھڑا کر لیا۔ گیارہ خیمے، سب ایک دائرے میں، اور درمیان میں آگ کی جگہ۔ یہ منظر دیکھ کر یوں محسوس ہوا جیسے ہم نے کسی ویران وادی میں اچانک ایک چھوٹا سا قصبہ آباد کر دیا ہو، جہاں ہر شے اپنی جگہ پر موجود ہو۔

جیکب، ڈنمارک سے اپنی فیملی کے ساتھ آیا تھا، اور اس کے ساتھ سوئٹزرلینڈ کا ہنری، اس کا بچپن کا دوست۔ ان کا کیمپ ہمارے بالکل ساتھ تھا، اور ان کے کمپ بننانے کے انداز سے صاف جھلکتا تھا کہ یہ لوگ خیموں کے ساتھ بڑے ہو کر آئے ہیں۔

انہوں نے اپنا کیمپ مکمل کیا تو ہمارا اناڑی پن اور پریشانی دیکھ کر ھماری طرف آگئے۔ نہ کوئی سوال، نہ کوئی ہدایت۔ جیکب نے خاموشی سے ڈنڈے سنبھال لیے، ہنری نے رسیوں کو درست کیا۔

میں اور ماہ نور ان کے ساتھ مدد کرنے کی بس کوشش کرتے رہے۔

جیکب کی بیوی گریتھی ان دونوں سے بھی زیادہ پھرتیلی نکلی۔ وہ کام میں سب سے آگے تھی۔ کبھی کیل ٹھونک رہی ہوتی، کبھی کپڑا تان لیتی، اور کبھی ہنستے ہوئے کہتی،

“یہ والا خیمہ ابھی بات نہیں مان رہا، اس سے دو دو ہاتھ کرنے پڑیں گے، ارے دیکھو تو، یہ والا کونا ابھی ہوا لے رہا ہے۔”

دیکھتے ہی دیکھتے ہمارے ان نئے نئے پورپی پڑوسیوں نے ہمارے خیمے بھی خوبصورتی سے کھڑے کر دیے۔ وہ لوگ بےلوث ہو کر کام کر رہے تھے، اور ساتھ ساتھ اس کام کو خوب انجوائے بھی کر رہے تھے۔

“ایٹس ڈن، جنٹلمین،”

جیکب نے فخر سے اعلان کیا۔

“ویل ڈن ماما!”

ان کے ننھے بچے، مِکّل نے تالیاں بجاتے ہوئے کہا۔

جیکب نے مصنوعی ناراضی سے کہا،

“اور بابا؟”

گریتھی نے مِکّل کو اٹھا کر ہنستے ہوئے کہا،

“ماماز شائنگ اسٹار۔”

ان دونوں کے ساتھ ان کی تین سالہ ننھی بیٹی فریا بھی تھی، جو اس کیمپ کی اصل رونق بن چکی تھی۔ کبھی وہ آگے آگے دوڑتی جاتی، کبھی خیموں کے بیچ قہقہے بکھیرتی، اور کبھی اچانک رک کر جیکب کی طرف دیکھتی۔ جیکب ہنستے ہوئے اسے پکڑنے کے لیے اس کے پیچھے بھاگتا، اور فریا کی ہنسی پورے کیمپ میں پھیل جاتی، جیسے اس خاموش وادی میں یکایک زندگی اتر آئی ہو۔

میں نے جاتے جاتے جیکب کے کان میں آہستہ سے کہا،

“رات کا پلان یاد ہے؟”

اس نے گرمجوشی سے میرا ہاتھ دبایا۔

“وی وِل میک دس نائٹ ان میموری، مائی فرینڈ۔”

جب آخری خیمہ بھی کھڑا ہو گیا تو ہمیں احساس ہوا کہ یہ ولیج اب محض ایک کیمپ نہیں رہا، یہ ایک گلوبل ولیج بن چکا تھا۔ مختلف ملکوں کے لوگ، مختلف کلچر، مگر ایک ہی دائرے میں سمٹے ہوئے، ایسے مانوس کہ اب کوئی بھی اجنبی محسوس نہیں ہو رہا تھا۔

خیمے اب میدان کا حصہ لگنے لگے تھے۔ بیچ میں آگ جلائی گئی۔ ہم سب نے گرم لباس پہن رکھے تھے، اور آگ ایک عجیب سا سکون دے رہی تھی۔ کچھ دیر تازہ ہونے کے بعد سب لوگ اسی آگ کے گرد ایک دائرے میں آ کر بیٹھ گئے۔ رات کا کھانا بھی ہم نے وہیں، اسی دائرے میں، اکٹھے ہی کھانا تھا۔

رات اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ اتر آئی تھی۔ آسمان بالکل صاف تھا، ستارے اتنے قریب لگ رہے تھے جیسے پہاڑ کی چوٹی پر لائٹس جلا دی گئی ہوں۔ ندی خاموشی سے بہہ رہی تھی، اور آگ کے شعلے سب کو مسحور کیے ہوئے تھے، جیسے ہر شعلہ اس رات کا راز جانتا ہو۔

مجھے دن ہی میں ماہ نور سے معلوم ہو گیا تھا کہ آج نرگس کی برتھ ڈے ہے۔ اسی لمحے میں نے دل میں طے کر لیا تھا کہ آج کیمپ میں اس دن کو بھرپور انداز میں منایا جائے گا۔ اپنا پلان میں نے سب کے ساتھ شیئر کر دیا تھا۔ انتظامیہ سمیت پورا کیمپ اس خفیہ منصوبے میں شامل تھا، سوائے نرگس کے۔

پلان کے مطابق ماہ نور نرگس کو اٹھا کر شوانی کے پاس بٹھا گئی، اور خود آ کرمیرے ساتھ بیٹھ گئی۔ شوانی باتوں باتوں میں بڑی مہارت سے نرگس کو آگ کے قریب، بالکل درمیان میں لے آئی۔ اس نے فخر بھری نظروں سے ہماری طرف دیکھا، اور ہم نے خاموش داد دی۔ اب نرگس مرکز میں تھی۔

ہماری نظریں اب گریتھی پر تھیں، جو ہمارے اشارے کی منتظر تھی۔ جونہی میں نے سر ہلا کر اشارہ کیا، اس نے آہستہ سے آگ کی روشنی مدھم کر دی۔ ہنری نے اپنے بیگ سے ایک چھوٹی سی لائٹ نکالی، اور جیکب نے سب کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔

اسی لمحے چاروں طرف چھوٹی چھوٹی روشنیوں کے دائرے بننے لگے۔ کسی کے ہاتھ میں موبائل کی لائٹ تھی، کسی کے ہاتھ میں ٹارچ، اور کسی کے ہاتھ میں موم بتی۔ اچانک ایک زور دار دھماکا ہوا۔ نرگس کے عین سر کے اوپر ایک غبارہ پھٹا، اور پھولوں کی پتیاں اس پر برسنے لگیں۔

گریتھی نے آگ کے سامنے رکھے کیک سے پردہ ہٹایا، اور سب نے باآوازِ بلند تالیاں بجا کر گانا شروع کر دیا۔

“ہیپی برتھ ڈے ٹو یو، ہیپی برتھ ڈے ٹو یو، ہیپی برتھ ڈے ڈئیر نرگس، ہیپی برتھ ڈے ٹو یو۔۔”

پہلے انگریزی میں، پھر ہر ایک نے اپنی اپنی زبان میں نرگس کو سالگرہ کی مبارک باد دی

 آذربائجان سے الیوف، ایلدار، الیار، آئدا اور سویل نے کہا،

“Doğum günün mübarək.”

پاکستان سے میں اور ماہ نور بولے،

“سالگرہ مبارک ہو، ہماری دوست۔”

برطانیہ سے انکل سیموئیل نے کہا،

“Happy Birthday, Dear Nargis.”

ڈنمارک سے جیکب، گریتھی اور ان کی فیملی نے کہا،

“Tillykke med fødselsdagen!”

سوئٹزرلینڈ سے ہنری نے کہا،

“Alles Gute zum Geburtstag.”

انڈیا سے شوانی، دھیرج اور ساریکا جی نے کہا،

“Janamdin Mubarak ho.”

روس سے الیگزے اور کاترینا بولے،

“С днём рождения.”

چین سے چن ہاؤ اور اس کی بیوی لی نے کہا،

“生日快乐” (Shēngrì kuàilè)

جاپان سے کینجی نے کہا،

“お誕生日おめでとう” (Otanjōbi omedetō)

نرگس ایک لمحے کو بالکل ساکت اور دم بخود رہ گئی۔ حیرت اور خوشی سے اس کی سانس اس کے حلق میں اٹک سی گئی۔ اس کیفیت میں اس کے منہ سے کوئی لفظ نہ نکل سکا بس آنکھوں میں خوشی کے آنسو تھے۔ اس نے ماہ نور کی طرف دیکھا، تو ماہ نور نے خاموشی سے میری طرف اشارہ کر دیا، جیسے بتا رہی ہو کہ یہ سب انہی کا کیا دھرا ہے۔

ہم سب نرگس کو اٹھا کر کیک کے پاس لے آئے۔ چن ہاؤ اور کینجی بھلا کہاں پیچھے رہنے والے تھے، فوراً اپنے کیمرے سنبھال لیے۔ نرگس نے کیک کاٹا، سب نے گروپ فوٹو بنوایا، اور ماہ نور نے خود ہی سب کو کیک سرو کرنا شروع کر دیا۔

نرگس نے ہم سب کی طرف تشکر بھری نظروں سے دیکھا، پھر آہستہ سے بولی،

“میں نے ساری عمر الفاظ سمجھنے کی کوشش کی۔ آج پہلی بار مجھے زبان سمجھ میں آئی ہے۔ میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ میری شاید یہ آخری سالگرہ میرے خوابوں اور خیالوں سے بڑھ کر ہوگی۔ میں زندگی سے ہار گئی تھی، مگر آپ لوگوں نے مجھے دوبارہ جینا سکھا دیا۔ آج میری سالگرہ اس حسین مقام پر، جہاں یہ بادل بھی ہیں، یہ ستارے بھی، یہ بہتی ندی بھی، اور یہ میرا نیا گلوبل خاندان بھی۔ کیسے اتنے اجنبی اتنی جلدی اپنے بن جائیں گے، یہ میں نے کبھی نہیں سوچا تھا۔”

وہ شاید درست کہہ رہی تھی۔ یہ شاید اس کی آخری ہی سالگرہ تھی، اور قدرت نے اس کے شایانِ شان اس کی محفل سجا دی تھی۔

اچانک انکل سیموئیل ہلکے ہلکے ناچتے ہوئے آگے آئے اور مسکراتے ہوئے بولے،

“Come on guys… have some party”

میں نے شرارتاً کاترینا سے کہا،

“کسی طرح الیگزے کو ڈانس کے لیے منا لو، تو میں مان جاؤں گا۔”

وہ مسکرائی، چٹکی بجائی،

“Relax… this is easy”

وہ الیگزے کے پاس گئی اور اس کے کان میں کچھ کہا۔ پہلے تو وہ انکار کرتا رہا، سر ہلاتا رہا، جیسے یہ اس کے مزاج کے خلاف ہو، مگر پھر اچانک جیسے اسے کرنٹ سا لگ گیا ہو۔ وہ اکیلا ہی اٹھا اور بے اختیار ناچنا شروع کر دیا۔ میوزک کی دھن تھی اور اس کا رقص۔ وہ ایسا ناچا، اور ناچتا ہی چلا گیا، کہ ہم سب ہنستے ہنستے دوہرے ہو گئے، پیٹ میں درد ہونے لگا، اور آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔

ہم سب رات گئے تک مختلف کھیل کھیلتے رہے۔ کبھی انتاکشری، کبھی ڈم شیراز، کبھی چَرَیڈز، اور کبھی بس آگ کے گرد بیٹھ کر ہنسی مذاق، یادیں اور پرانی کہانیاں۔ ہم سب نے دل کھول کر اس رات کو انجوائے کیا، اور وہ لمحہ بہ لمحہ ایک نہ بھولنے والی یاد بنتی چلی گئی۔

آخرکار انکل سیموئیل نے ایک لمبی جمائی لیتے ہوئے اعلان کیا کہ اب بہت ہو گیا ہے، سونا چاہیے۔ یہ کہتے ہوئے وہ ہنستے مسکراتے اپنے خیمے کی طرف چل دیے۔ آہستہ آہستہ ہم سب نے بھی آرام کا فیصلہ کیا، حالانکہ یوں لگ رہا تھا جیسے ابھی تک کسی کا دل جانے پر راضی نہیں تھا۔

ماہ نور مجھے اس لمحے بہت مطمئن نظر آئی، اور اسے مطمئن دیکھ کر مجھے بھی ایک عجیب سا سکون ملا۔ اسے خوش دیکھ کر میرے اندر ایک ان کہی سی خوشی جاگ اٹھی۔

سب لوگ ایک دوسرے کا شکریہ ادا کرتے ہوئے رخصت ہونے لگے۔ ہم نے بھی فرداً فرداً سب کا شکریہ ادا کیا۔ اس نئی فیملی نے آج واقعی ہمارے پلان کو چار چاند لگا دیے تھے۔ آہستہ آہستہ سب اپنے اپنے خیموں کی طرف آرام کے لیے جانے لگے، اور ہم نرگس کے تحفے اٹھائے اپنے خیمے کی جانب بڑھنے لگے۔

میں اپنے کیمپ کی طرف مڑا ہی تھا کہ نرگس نے آواز دی،

“آپ کچھ دیر ہمارے کیمپ میں آ جائیں، یہ تحفے کھول لیتے ہیں۔”

ہم خیمے میں بیٹھ گئے اور ایک ایک کر کے تحفے کھولنے لگے۔ ہر تحفے میں خلوص تھا، محبت تھی، اور اپنے اپنے ملک کی کوئی نہ کوئی نشانی۔ یہ تحفے نہیں تھے، یہ یادیں تھیں جو ہمارے ہاتھوں میں سمٹ آئی تھیں۔

ماہ نور نے پھر سے چائے بنانے کی پیشکش کی، جس کی اس وقت مجھے واقعی شدید طلب تھی۔ نرگس خاصی تھک چکی تھی، وہ چائے بننے کا انتظار کرتے کرتے بستر پر گری اور نیند کی آغوش میں چلی گئی۔

میں اور ماہ نور اب اس رات کی آخری چائے پینے لگے۔

“کل ہم لوگ جدا ہو جائیں گے،”

ماہ نور نے خلا میں دیکھتے ہوئے، بے چینی اور اداسی کے ساتھ کہا۔ جیسے یہ اسکے منہ سے اچانک نکل گیا ہو۔

“نہیں، ہم لوگ جدا نہیں ہوں گے،”

میں نے جواباً اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔

اس نے غیر یقینی نظروں سے مجھے دیکھا اور چائے کا ایک گھونٹ لیا، جیسے میرے الفاظ رسمی تسلی کے سوا کچھ نہ ہوں۔

سچ یہ تھا کہ اس مختصر سے سفر سے جانے کو دل نہیں چاہ رہا تھا۔ دل چاہ رہا تھا کہ ہمارے باقی لوگ بھی اسی ٹرپ میں  شامل ہو جائیں، اور یہ سفر چلتا رہے، کبھی ختم ہی نہ ہو۔

کچھ لمحوں بعد ماہ نور نے بات بدلتے ہوئے کہا،

“آپ نے مجھے نرگس کے علاج کے بارے میں بتایا تھا کہ شاید ممکن ہو۔ حالانکہ شاید آپ بھی جانتے ہیں کہ ایسا نہیں ہے۔ میں نے اس پر کافی تحقیق کی ہے، دنیا کے بہت سے مایہ ناز ڈاکٹروں سے بات کی ہے۔ سب خاموش ہیں۔ آپا کے بارے میں سب یہی کہتے ہیں کہ شاید موت قریب ہے، اور شاید یہ بات آپ کو بھی اچھی طرح معلوم ہے۔”

اس کی آواز میں ایک تھکی ہوئی سچائی تھی۔ پھر اس نے دھیرے سے کہا،

“عطاء صاحب، آپ نے آج نرگس کے لیے جو کچھ کیا، اس کا احسان میں تمام عمر نہیں بھولوں گی۔”

ماہ نور ایک طرف جتنی شوخ اور چنچل تھی، دوسری طرف اتنی ہی گہری، پر نور اور باوقار بھی۔ وہ بولی،

“آپ کہیں اچانک غائب نہ ہو جائیے گا، رابطے میں رہیے گا۔ نرگس آپ سے مل کر سچ میں خوش ہو گئی، اور اس کی خوشی مجھے ہر چیز سے زیادہ عزیز ہے۔”

میں اندر ہی اندر ٹوٹ رہا تھا۔ الفاظ میرا ساتھ چھوڑ چکے تھے۔ نرگس کی بے بسی اور ماہ نور کی مضبوط مگر معصوم باتوں کا میرے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔

رات کافی گہری ہو چکی تھی۔ چائے کا خالی کپ میرے ہاتھ سے پھسلنے کو تھا۔

“ہمیں اب آرام کرنا چاہیے،”

ماہ نور نے میری خاموشی محسوس کرتے ہوئے کہا۔

“جی،”

میں بس اتنا ہی کہہ سکا۔

میں نے اجازت لی اور اپنے کیمپ کی طرف آ گیا۔

نیند آج مجھ سے کوسوں دور تھی۔ ایک غیر معمولی دن کا اختتام ہو چکا تھا۔ میں جدائی کے لفظ پر غور کر رہا تھا کہ آخر کیوں کسی سے اچانک، بغیر کسی منصوبے کے، ملاقات ہو جائے اور پھر اتنی اپنائیت پیدا ہو جائے کہ جدا ہونا اتنا دشوار لگنے لگے۔

نجانےرات کے کس پہر میری آنکھ لگی۔ صبح سویرے ٹور ہوسٹس کی آواز آئی،

“سر، اٹھ جائیے، ناشتہ تیار ہے۔”

میں جھٹ سے اٹھا، منہ ہاتھ دھویا، ناشتہ کیا، اور ایک بھاری دل کے ساتھ واپسی کے سفر کی تیاری شروع کر دی۔

بیگ اٹھا کر جب میں مرکزی پیسنجر اسپاٹ پر پہنچا تو دیکھا ماہ نور اور نرگس وہاں پہلے ہی تیار کھڑی تھیں۔ آج دونوں بہنیں بہت پر پُرسکون اور فریش لگ رہی تھیں۔

“گڈ مارننگ سر،”

ماہ نور نے مجھے دیکھتے ہی کہا۔

“صبح بخیر، امید ہے آپ لوگوں کی رات اچھی گزری ہوگی،”

میں نے جواب دیا۔

“رات تو بہت اچھی گزری، بس نرگس کو اچانک ڈر لگ گیا تھا کہ کہیں پچھلے پہر اچانک شیر نہ آ جائے،”

ماہ نور نے شرارت سے نرگس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔

نرگس فوراً بولی،

“میں نے ایک مووی میں ایسا دیکھا تھا، بس مجھے وہی یاد آ گیا۔”

 سب مسافر ہنستے مسکراتے، ایک دوسرے کو ہیلو ہائے کہتے بس میں واپس آ چکے تھے۔ کچھ ہی دیر میں ہم باکو کی جانب رواں تھے۔

راستہ ابھی باقی تھا، پلان کے مطابق ہمیں خینالیق روڈ کے پہاڑی راستوں سے گزرتے ہوئے قوبا کے سیبوں کے باغات اور خدات گاؤں کی سادہ، پُرسکون ولیج لائف دیکھنی تھی۔ پھر کیسپین سی کی خاموش اور نرم ساحل سے مسحور ہوتے ہوئے رات کو رنگوں اور روشنیوں سے بھرے باکو شہر میں واپس پہنچنا تھا۔ سب مسافر اس ٹور کے اختتامی دن کو مزید یادگار بنانے کے لیے خاصے پُرجوش نظر آ رہے تھے۔

واپسی کا راستہ ہمیشہ آتے ہوئے راستے سے مختلف لگتا ہے۔ شاید اس لیے کہ انسان کے پاس اب کچھ بچا ہوا ہوتا ہے، یا شاید اس لیے کہ کچھ نہ کچھ، چاہے ہم نہ چاہیں، پیچھے رہ جانے کا ڈر ہوتا ہے۔

صبح کا منظر بے حد دلکش تھا۔ سورج آہستہ آہستہ طلوع ہو رہا تھا۔ بس کا ڈرائیور، نسیمی، ہمیں راستے کے بارے میں مکمل آگاہی دے رہا تھا۔  واپسی کا راستہ بھی بدلا ہوا تھا اور ہم سب کی کیفیات بھی۔ صرف ایک دن میں ہم سب ایک دوسرے سے ایسے مانوس ہو چکے تھے جیسے برسوں کی شناسائی ہو۔ اس دن کی یادیں ہماری مستقل میموری میں گہرے نقش کی صورت محفوظ ہو چکی تھیں۔

مجھے بار بار ماہ نور کی بات یاد آ رہی تھی،

“کیا آج ہماری ملاقات کا آخری دن ہے؟ کیا ہم واقعی ہی آج شام تک ہمیشہ کےلیے بچھڑ جائیں گے؟ کیا ہم محض جدا ہونے کے لیے ملے ہیں؟”

پھر مجھے نرگس کی بیماری اور اس کے اس آخری سفر کا خیال آیا، جو اس نے اتنی زندہ دلی سے گزارا تھا۔

ماہ نور نے سر کھڑکی سے ٹیک رکھا تھا اور شیشے سے باہر دیکھتے ہوئے کسی گہری سوچ میں گم تھی، جیسے وہ بھی گزرتے مناظر کو اپنے اندر سمیٹ رہی ہو، جنہیں ہمیں بہت جلد چھوڑ دینا تھا۔

میں نے اسے متوجہ کرتے ہوئے کہا،

“آپ بہت تھک تو نہیں گئیں؟”

وہ ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولی،

“نہیں عطاء صاحب، بس آج دل کچھ بھرا ہوا ہے۔ نہ جانے کیوں مطمئن بھی ہے اور اداس بھی۔”

“ایسا کیوں ہے؟”

میں نے استفسار کیا۔

وہ پوری معصومیت سے بولی،

“یہ تو مجھے خود معلوم نہیں۔ مطمئن شاید اس لیے کہ میں نرگس کو اس سفر پر آمادہ کر پائی۔ وہ آج بہت پرسکون لگ رہی ہے۔ اور اداس شاید اس لیے کہ کاش لفظ جدائی کبھی ایجاد ہی نہ ہوا ہوتا۔ بس سب کا ملن ہوتا، بچھڑنا نہ ہوتا۔”

اسکی بات کی گہرائی سمجھتے ہوئے میں بولا۔

“دیکھیے، ممکن ہے آپ میری بات سے متفق نہ ہوں، کیونکہ میرے پاس اب کوئی مذید سائنسی دلیل نہیں، مگر میری چھٹی حس کہتی ہے کہ نرگس جی کی فکر آپ چھوڑ دیں، انہیں کچھ نہیں ہوگا۔ اور دوسرا، میں اگر ایک بار کسی کو دوست کہہ دوں تو پھر اس سے کبھی بھی بچھٹرتا نہیں، مرتے دم تک۔” میں نے پر اعتماد  لہجے میں کہا۔

میری بات سن کر اس کے معصوم سے گلنار چہرے پر ایک عجیب سا سکون اور تازگی اتر آئی۔ اس نے اثبات میں آہستہ سے سر ہلا دیا۔

نرگس آگے والی سیٹ پر گریتھی کے ساتھ بیٹھی باتیں کر رہی تھی۔ وہ آج غیر معمولی طور پر مطمئن لگ رہی تھی، جیسے اس نے اپنا سارا بوجھ گردیمنچائے کے کنارے اتار دیا ہو۔

ہم سب مسافر اپنے انجام سے بے خبر اس بدقسمت بس، 27-BT-614، کے مسافر تھے، جو ہمیں بہت جلد داغِ مفارقت دینے والی تھی-

بس ایک پہاڑی موڑ کاٹ رہی تھی۔ وہ موڑ جس کے آگے صرف دھند، پتھر اور ایک لمبی، نہ دکھائی دینے والی خاموش کھائی تھی۔ ڈرائیور نے رفتار کم کی تھی، مگر پہاڑوں میں کبھی کبھی رفتار نہیں، توازن جواب دے جاتا ہے۔

اچانک ایک چرچراہٹ ہوئی، جیسے لوہے نے آخری بار اپنی طاقت آزمائی ہو۔ بس اپنا توازن کھو چکی تھی اور مسلسل پھسل رہی تھی۔ وہ اب آہستہ آہستہ ڈرائیور کے کنٹرول سے باہر جانے لگی اور ایک کھائی کی جانب لڑھک چکی تھی۔ دیکھتے ہی دیکھتے زمین سے  اس کا ایک آخری رابطہ ہوا اور ہوا میں بل کھاتی یہ بد نصیب بس اب اندھیری کھائی کہ جانب تھی۔ یہ محض گرنا نہیں تھا، یہ الگ ہونا تھا، زمین سے، یقین سے، اور اس خیال سے کہ اب بھی سب پہلے جیسا، ٹھیک رہ جائے گا۔

سب مسافراپنی اگلی منزل بخوبی سمجھ چکے تھے۔ بس میں اب شور اور چیخ و پکار چاروں طرف گونج رہی تھی۔

ماہ نور نے میرا ہاتھ زور سے پکڑ لیا۔ اس کی آواز پہلی بار کانپی: 

“یہ کیا ہوا… یہ کیا ہوا اچانک… آپی… آپی…”

میں نے اس کی طرف دیکھ کر کچھ کہنا چاہا، کہ “کچھ نہیں ہوگا” ، مگر مجھے بولنے کی مہلت ہی نہ ملی۔

بس پوری طاقت سےاس  پہاڑی موڑ سے نیچے گری۔ ایک، دو، تین بار ٹکرائی۔  ہر ٹکر پر کوئی نہ کوئی آواز ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئی۔ شیشہ ہوا میں ٹوٹ کر بکھر گیا۔ لوہا مڑا، سیٹیں اپنی جگہ چھوڑ گئیں۔ چند ہی لمحوں بعد بس میں پھیلا شور اور چیخیں ایک مکمل خاموشی میں بدل گئیں۔ ایک لمبی، بے رحم خاموشی۔

میں ابھی تک ایک گہرے شاک میں تھا۔ مجھے معلوم نہین تھا کہ اس عالم میں  پورے ہوش میں تھا یا کچھ لمحے میرے ہوش کہیں جا چکے تھے۔

میری پہلی چیخ درد کے مارے نہیں نکلی۔ یہ چیخ ماہ نور کے لیے تھی۔ اس کا ہاتھ اب بھی میری ہتھیلی میں تھا، مگر ٹھنڈا اور خاموش۔

میں نے کانپتی نظروں اسکے چہرہ کی جانب دیکھا۔ اس کے سرپر ایک گہری چوٹ اور آنکھیں مکمل بند تھیں۔ مگر ابھی بھی چہرے پر وہی سکون اور اطمینان تھا جو وہ کبھی چائے بناتے وقت رکھتی تھی۔ مجھے لگا وہ گہری نییند سو رہی ہے۔

میں نے زور زور سے اسکا نام لیا۔ ایک بار۔ پھر دوسری بار۔ اور پھر تیسری بار اور اسے زور سے جنھجھوڑا، مگر اب کی بار وہ جواب دینے والی نہیں تھی۔

میں زور زور سے چیخا اور پھوٹ پھوٹ کر رویا۔  میرے فقط آنسو نہیں بہہ رہے تھے، ایسا لگ رہا تھا جیسے میری  سانس کہیں اٹک گئی ہو۔

“ماہ نور… ماہ نور…”

میری روتی ہوئی بے بس آواز کہیں کھو گئی۔

ماہ نور۔ 

وہ جس نے ہر کام بغیر کہے سنبھال رکھا تھا۔ 

وہ جس نے نرگس کو زبردستی اس آخری سفر پر لایا تھا، یہ نہ جانتے ہوئے کہ یہ اس کا اپنا آخری سفر ہوگا۔ اب ہمیشہ کے لیے جا چکی تھی۔

وہ ہمیشہ کہتی تھی: 

“مجھے اپنے کل کی فکر نہیں، بس نرگس کو کچھ نہ ہو…”

آج کے دن کے بعد اس کا کل اب تھا ہی نہیں۔ وہ ہمیں چھوڑ کے جا چکی تھی۔ مستقبل میں مستقل رابطے کا کہہ کراب ہر رابطہ مستقل ختم کر چکی تھی۔

میں ابھی ماہ نور کے شاک سے نہیں نکلا تھا کہ کچھ دیر بعد مجھے قریب ہی نرگس کی چیخ سنائی دی۔ ایک بے بس، لاچار چیخ: 

“یا اللہ…“یا اللہ…!”

وہ میری طرف اپنا ہاتھ بڑھا رہی تھیں، مگر خود ایک سیٹ میں پھنسی ہوئی تھیں۔ وہ زندہ تھیں،اور مکمل بچ گئی تھیں، بس زور زور سے روتی چلی جا رہی تھیں۔ ایسا رونا جس میں آنسوؤں سے زیادہ بے بسی تھی۔

یہ بات مجھے کچھ دیر بعد سمجھ آئی کہ بس میں ہم دونوں ہی زندہ بچے تھے۔  باقی سب ھمیشہ کے لیے جا چکے تھے۔

گریتھی، جو سب سے زیادہ کام میں ایکٹو تھی، اب مکمل خاموش تھی۔ اس کی گردن نرگس کے قریب ڈھلکی پڑی تھی۔

جیکب اور ہنری دونوں ایک ہی خاموشی میں اتر گئے تھے۔ ایسی خاموشی جس میں نہ سوال تھا، نہ شکوہ، بس دو دوستوں کا ایک ساتھ ختم ہو جانا تھا۔

ننھی فریا اور معصوم مِکّل، ہاتھوں میں اپنے پسندیدہ کھلونے تھامے، اب شور و غل نہیں کر رہے تھے۔ مکمل خاموش تھے۔

انکل سیموئیل، جن کی ہنسی پہلے ہر جگہ گونجتی تھی، اب وہ بھی مکمل خاموش تھے۔ ان کے پاس انکی جمع کی ہوئی بکھری ہوئی جڑی بوٹیاں، جنہوں نے لوگوں کی سانسیں سنبھالنی تھیں، اب خود خاکستر ہو چکی تھیں۔

چن ہاؤ کا کیمرہ اب بھی اس کے گلے میں لٹکا تھا، جیسے آخری تصویر وہی ہو جو وہ نہ لے سکا۔ اس کی بیوی لی کے چہرےکے زخم بہت گہرے تھے، اور اسکا ابھی تک خون بہہ رہا تھا۔

کینجی کے ہاتھ میں اب کیمرہ نہیں تھا،۷ بس ہاتھ ایسے باندھ رکھے تھے  جیسے وہ احتراماً جھک کے سلام کرنے  والا ہو۔

شوانی کا ہاتھ دھیرج کے ہاتھ میں ہی رہ گیا تھا، جیسے وہ گرنے سے پہلے ایک دوسرے کو یاد رکھنا چاہتے ہوں۔ ساریکا جی کی آنکھیں کھلی تھیں، منہ ادھ کھلا، جیسے وہ مجھ سے اب بھی کچھ کہنا چاہ رہی ہوں۔

الیگزے نے آخری لمحے کاترینا کو اپنے بازوؤں میں کھینچ لیا تھا۔ اس کا سر اب بھی الیگزے کی بانہوں میں تھا، مگر دونوں مکمل ساکت تھے۔

الیار، جس کے قدم ہمیشہ تال میں ہوتے تھے، اب گہری نیند سو چکا تھا۔

الیوف اور اس کی منگیتر آئدا، ایلدار اور سویل، خاموش پڑے تھے۔ وہ ہاتھ جو کبھی یاّلی کھیلتے ہوئے ایک دائرے میں جڑتے تھے، اب زمین پر بکھرے پڑے تھے۔

نسیمی بس کا ڈرائیور، اسکا سر بس کے اسٹیئرنگ پر سجدہ ریز تھا، اور ساتھ بیٹھی، بس ہوسٹس مارگریٹ، چائے کے کپ کی بکھری ہوئی کرچیوں کے ساتھ پڑی تھی۔

خون سب کا ایک دوسرے میں گھل چکا تھا، جیسے وہ اب الگ الگ وجود نہ رہے ہوں، بلکہ ایک ہی سانس، ایک ہی انجام میں سمٹ آئے ہوں۔ ہر طرف ایک وحشت ناک سکوت پھیل چکا تھا، ایسی خاموشی جو آواز کے چلی جانے سے نہیں، زندگی کے اٹھ جانے سے پیدا ہوئی تھی۔

 قہقوں سے بھری، زندگی سے بھر پور  یہ متحرک چلتی ہوئی بس، اب مکمل رک چکی تھی۔ ہر طرف خاموشی تھی، بس میں تھا اور سہمی ہوئی نرگس۔

ہمارے اس نئے بنے ہوئے خاندان کے سارے ساتھی ہم سے بچھڑ چکے تھے۔ میں اور نرگس پھٹی پھٹی آنکھوں سے اس ناقابلِ یقین منظر کو دیکھ رہے تھے۔ چند ہی لمحوں میں سب کچھ بدل گیا تھا۔ کتنی سانسیں ایک ساتھ پرواز کر گئی تھیں۔ کتنے گھروں میں ایک ہی گھڑی میں سوگ اترنے والا تھا۔

 اسی دن مجھے پہلی بار زندگی کی اصل سمجھ آئی، کہ یہ سب بس ایک پل کا ٹھہراؤ ہے۔ کہ تمام سفر ادھورے اور نامکمل ہیں، اور اگر کوئی سفر مکمل ہے… تو وہ صرف موت کا ہے۔

پہاڑ بھی خاموش تھے۔ ندی دور کہیں بہہ رہی تھی۔ اور ہم، دو انسان، اب ایک ایسی اجڑی بس میں بیٹھے تھے جو اب یادگار بن چکی تھی۔

ہم بچنا ایک معجزہ تھا۔

ہم کیوں بچے؟ بس کی آخری بار ٹکر ایک ڈھلوانی چٹان سے ہوئی تھی۔ اس ٹکر کے دوران ہمارے پیچھے کی سیٹ اڑی اور ہمارے سامنے آ کر رک گئی، ایک ڈھال کی مانند۔ بد قسمتی سےاس ڈھال پر صرف میرا اور نرگس کا نام لکھا تھا۔ ماہ نور کا نہیں۔

 دیکھنے میں وہ ایک عام سی سیٹ تھی، بہت ہلکی سی، مگر نہ جانے کیسے ایک ڈھال کی ماند بن گئی اور ہمیں مرنے سے بچا لیا۔

سائنسدان اورانجینئر بعد میں ضرور کہیں گے کہ پلاسٹک کی سیٹ بلندی سے گری بس میں انسانی جان نہیں بچا سکتی، یہ ممکن ہی نہیں۔ مگر یہ ممکن ہو چکا تھا۔

نرگس کی حالت اس وقت نہایت نازک تھی۔ موت اس کے بہت قریب آئی۔ اتنی قریب کہ اس نے آخری سانس محسوس کی، مگر وہ بچ نکلی، اور موت اس کے ساتھ بیٹھی گریتھی کو لے گئی۔

ماہ نور… 

وہ جس نے گزشتہ شب اداس ہو کرمجھ سے کہا تھا، 

“کیا ہم کل بچھڑ جائیں گے؟”

وہ شائید میری کسی دلیل سےغیرمطمئن تھی، شائید اسی لیے روٹھ  کر چلی گئی تھی، ہمیشہ ہمیشہ کے لیے۔

اس کی ہنسی، اس کی شوخی، اس کی معصوم آنکھیں، اس کا بھولا پن، بچوں جیسی ادائیں، باوقار گفتگو، شرارت بھرا انداز،چہرے پر تازگی، باتوں باتوں میں مذاق، سب  بس اب ایک یاد بن چکے تھے۔

میں اس کے پاس ہی کافی دیر یونہی بیٹھا رہا۔ یوں نہیں کہ امید تھی وہ آنکھ کھول لے گی، اور اپنی چمکتی آنکھیں گھما کر پھر سے کوئی  بات کرے گی، بس یوں کہ وہاں سے اٹھ جانا ممکن ہی نہیں ہو رہا تھا۔

میں بغیر کوئی آواز نکالے دل سے رو رہا تھا۔  بہت ضبط کر رہا تھا، چیخ وپکار نہیں،  اس ڈر سے کہ کہیں اسے شور ناگوار نہ گزرے۔

نرگس نے ٹوٹتی آواز میں ہچکی لے کر کہا، 

“امیں جا کر ماں جی کو کیا بتاؤں گی؟”

میں نے اس کی طرف دیکھا۔ مکمل بکھری، مرجھائی ہوئی نرگس۔ جو اپنی سب سے قیمتی چیز کھو چکی تھی۔

 میرے پاس اس بات کا کوئی جواب نہیں تھا۔ میں تو خود خلاؤں میں گھور رہا تھا اورجو ہوا وہ سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا۔

ہم اس سفر سے واپس تو آ گئے، مگریہ سفر ہمیں آج تک چھوڑ کر نہیں گیا۔ باقی مسافر تو منزل پا گئے تھے مگر ھمارا سفر ابھی جاری تھا۔

میں اکثرسوچتا کہ کاش یہ سب ایک بھیانک خواب ہوتا اور بروقت آنکھ  کھل جاتی۔  آج برسوں بعد سوچا کہ سب کچھ لکھ کے اپنا غم ہی ہلکا کروں۔

اب جب بھی بس چلتی ہے، یا پہاڑ حد سے زیادہ خاموش لگتے ہیں، یا چائے بلاوجہ دیر تک ابلتی رہتی ہے، تو میں خود کلامی میں دل کو یہ سمجھا لیتا ہوں کہ زندگی کا ہر سفرادھورا ہوتا، ہر منزل ایک سراب ہوتی۔  کچھ سفر ہمیں بس یہ سکھانے آتے ہیں کہ جنہیں ہم واپس ساتھ لاتے ہیں، وہ انسان نہیں ہوتے، بس ان کی بکھری یادیں ہوتی ہیں، جو تمام عمر ہمارا پیچھا کرتی رہتی ہیں۔

ماہ نور کی یاد میں لکھی ایک نظم

#Leave A Comment

#Leave A Comment

Select the fields to be shown. Others will be hidden. Drag and drop to rearrange the order.
  • Image
  • SKU
  • Rating
  • Price
  • Stock
  • Availability
  • Add to cart
  • Description
  • Content
  • Weight
  • Dimensions
  • Additional information
Click outside to hide the comparison bar
Compare